بلاوڑہ شریف میں 22ویں سالانہ ختمِ پاک کی خوبصورت گھڑیاں ، عقیدۂ ختمِ نبوت کی خوشبو

بلاوڑہ شریف

کوٹلی ستیاں(نوید ستی کے قلم سے)پہاڑوں کی خاموش وادیوں میں جب ذکرِ الٰہی کی صدائیں بلند ہوں، درود و سلام کی خوشبو فضاؤں میں پھیل جائے، عاشقانِ رسول ﷺ کے قافلے دور دراز علاقوں سے ایک روحانی مرکز کی جانب رواں دواں ہوں اور ہزاروں دل ایک ہی عقیدت میں دھڑک رہے ہوں تو ایسا منظر محض ایک تقریب نہیں رہتا بلکہ ایک روحانی کیفیت بن جاتا ہے۔کوٹلی ستیاں کی حسین وادیوں میں واقع دربارِ عالیہ بلاوڑہ شریف ایک مرتبہ پھر ایسی ہی روح پرور کیفیت کا مرکز بنا، جہاں دنیا کے عظیم صوفی بزرگ، صوفی باصفا حضرت قبلہ پیر صوبیدار مسنجف علی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کے 22ویں سالانہ ختمِ پاک کی عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔اس روحانی اجتماع میں ملک کے مختلف علاقوں سمیت بیرونِ ملک سے بھی عقیدت مندوں، مریدین اور عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ نے شرکت کی۔ برطانیہ، دبئی، کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ سمیت مختلف ممالک سے آنے والے زائرین اور ملک کے مختلف شہروں سے پہنچنے والے ہزاروں افراد نے محفل کو ایک بڑے روحانی اجتماع میں تبدیل کر دیا۔تقریب کی صدارت سپہ سالارِ عقیدۂ تاجدارِ ختمِ نبوت، قلندرِ دوراں، صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار نے کی۔ معروف علماء، عالمی شہرت یافتہ ثناء خوانِ مصطفیٰ ﷺ، نعت خواں حضرات، دربارِ عالیہ بلاوڑہ شریف کے خادمین، مریدین اور عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔علماء کرام کے خطابات، ثناء خوانوں کے نذرانۂ عقیدت اور درود و سلام کی صداؤں کے درمیان جب ’’تاجدارِ ختمِ نبوت زندہ باد‘‘ کے نعرے بلند ہوئے تو بلاوڑہ شریف کی وادیوں کا ماحول ایک منفرد روحانی کیفیت اختیار کر گیا۔حضرت قبلہ پیر صوبیدار مسنجف علی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا بنیادی محور اللہ تعالیٰ کی بندگی، عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور مخلوقِ خدا کی خدمت بتایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے وصال کے بعد بھی بلاوڑہ شریف سے وابستہ عقیدت کا یہ سلسلہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار نے اپنے خطاب میں پیر مسنجف علی سرکارؒ کی زندگی اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی بندگی، عشقِ رسول ﷺ اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں بسر کی۔ ان کے مطابق یہی خدمت اور اخلاص وہ سرمایہ ہے جس کی وجہ سے آج بھی عقیدت مند بلاوڑہ شریف سے روحانی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔بلاوڑہ شریف کی داستان دراصل ایک ایسے گاؤں کی داستان بھی ہے جس نے ایک روحانی مرکز کی حیثیت سے اپنی الگ شناخت بنائی۔ جہاں کبھی پہاڑوں، جنگلات اور خاموش وادیوں کا ذکر ہوتا تھا، آج وہی مقام پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں عقیدت مندوں کے لیے شناسا نام بن چکا ہے۔سالانہ ختمِ پاک کی محفل میں صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار نے اپنے خطاب میں اپنے مشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کے دو بنیادی مقاصد ہیں: تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی بات کرنا اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرنایہی پیغام ان کے مختلف خطابات میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے سرکاری پلیٹ فارم پر موجود تعارف میں بھی دربارِ عالیہ بلاوڑہ شریف کے پیغام کو محبت، امن، رواداری اور انسانیت کی خدمت سے جوڑا گیا ہے۔یہاں ایک اہم پہلو قابلِ ذکر ہے کہ روحانی مراکز کی اصل طاقت صرف بڑے اجتماعات نہیں بلکہ وہ اخلاقی اور انسانی پیغام ہوتا ہے جو وہاں سے معاشرے تک پہنچتا ہے۔ بلاوڑہ شریف سے وابستہ پیغام میں بھی خدمتِ خلق کو ایک نمایاں مقام حاصل ہےصاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار اپنے خطابات میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی حصہ قرار دیتے ہیں۔ سالانہ ختمِ پاک کے خطاب میں بھی انہوں نے واضح کیا کہ ختمِ نبوت کے معاملے میں ان کا مؤقف دوٹوک ہے اور وہ اس عقیدے کے تحفظ کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں ان کے سابقہ خطابات میں بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے پیغام کو ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک ہونے والی تقریبات میں بھی اجاگر کرتے رہے ہیں بلاوڑہ شریف کے روحانی ماحول میں محبتِ رسول ﷺ، درود و سلام، ذکرِ الٰہی اور خدمتِ انسانیت کا پہلو بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار نے اپنے خطاب میں ایک خوبصورت تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے بندے قینچی نہیں بلکہ سوئی دھاگے کی مانند ہوتے ہیں، جو لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیںیہ جملہ موجودہ معاشرتی حالات میں اپنے اندر ایک وسیع پیغام رکھتا ہے۔آج معاشرہ مختلف طبقات، اختلافات اور باہمی فاصلے کا شکار ہے۔ ایسے میں مذہبی و روحانی مراکز اگر محبت، برداشت، اخوت، خدمت اور انسانوں کو قریب لانے کا پیغام عام کریں تو یہ معاشرتی استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہےبلاوڑہ شریف کے اجتماعات میں مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کا ایک جگہ جمع ہونا بھی اسی سماجی وابستگی کی ایک تصویر پیش کرتا ہےسالانہ ختمِ پاک کے موقع پر بلاوڑہ شریف کی فضائیں درود و سلام، ذکرِ پاک، نعتِ رسول مقبول ﷺ اور عقیدت مندوں کی آوازوں سے گونجتی رہیں دربارِ عالیہ کے خادمین نے زائرین کی سہولت کے لیے سکیورٹی، لنگر اور دیگر انتظامات میں خدمات انجام دیں۔ مختلف ذمہ داریوں پر بڑی تعداد میں خادمین موجود رہے، جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مہمانوں کے لیے بھی انتظامات کیے گئےیہ انتظامات کسی ایک فرد کی کاوش نہیں بلکہ ایک اجتماعی خدمت کا مظہر تھے۔ ایک طرف عقیدت مند محفل میں شریک تھے تو دوسری جانب خادمین خاموشی سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھےیہی وہ منظر تھا جس نے بلاوڑہ شریف کے اس اجتماع کو محض ایک مذہبی تقریب کے بجائے خدمت، عقیدت اور اجتماعی نظم کا نمونہ بنا دیاحضرت پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ کی زندگی کا تذکرہ ہو اور خدمتِ خلق کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ان سے منسوب روحانی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار بھی اپنے بیانات میں انسانیت کی خدمت کو اہم قرار دیتے ہیں۔ دستیاب مواد کے مطابق ان کے پلیٹ فارم پر بھی خدمتِ انسانیت، محبت، امن اور رواداری کو نمایاں پیغام کے طور پر پیش کیا گیا ہےیہی وجہ ہے کہ بلاوڑہ شریف آنے والے افراد کے لیے یہ مقام صرف ایک مزار یا اجتماع گاہ نہیں بلکہ ایک روحانی نسبت، عقیدت اور وابستگی کی علامت بھی ہے۔سالانہ ختمِ پاک کی تقریب کے اختتام پر بھی ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جو اس اجتماع کی یادوں میں طویل عرصے تک باقی رہے گاخصوصی دعا کے بعد صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار نے دور دراز علاقوں سے آنے والے مہمانوں کو رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ سفر کیا اور تقریباً 75 کلومیٹر تک سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مہمانوں کو الوداع کرتے رہےاس دوران فضا ایک مرتبہ پھر ’’تاجدارِ ختمِ نبوت زندہ باد‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے محض ایک رخصتی نہیں بلکہ محبت، عقیدت اور تعلق کی ایک علامت تھا۔بلاوڑہ شریف کی پہاڑی وادیوں سے اٹھنے والی آواز کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ، ذکرِ الٰہی، خدمتِ خلق، محبت اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہےصاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار کے مختلف عوامی خطابات اور دربارِ عالیہ سے وابستہ سرگرمیوں میں یہی موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ دربارِ عالیہ بلاوڑہ شریف میں ختمِ نبوت کانفرنسوں اور دیگر مذہبی اجتماعات کا انعقاد بھی ایک مسلسل روایت بن چکا ہے۔آج جب 22ویں سالانہ ختمِ پاک کے موقع پر دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے ہزاروں عقیدت مند واپس لوٹ رہے تھے تو بلاوڑہ شریف کی وادیاں ایک بار پھر خاموش ہو رہی تھیں، مگر درود و سلام اور ذکرِ رسول ﷺ کی صدائیں جیسے پہاڑوں میں ٹھہر گئی تھیں پیر مسنجف علی سرکارؒ کی یاد میں سجنے والی یہ محفل اختتام پذیر ضرور ہوئی، مگر اس کا پیغام ختم نہیں ہوا۔یہ پیغام آنے والے دنوں میں بھی بلاوڑہ شریف کی وادیوں سے بلند ہوتا رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی، حضور اکرم ﷺ سے محبت، عقیدۂ ختمِ نبوت سے وابستگی اور مخلوقِ خدا کی خدمت ہی وہ اقدار ہیں جو انسان کو انسان سے جوڑتی ہیں۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر سال جب عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کے قافلے بلاوڑہ شریف کی جانب بڑھتے ہیں تو پہاڑوں کی خاموشی ٹوٹ جاتی ہے، وادیاں درود و سلام سے مہک اٹھتی ہیں اور ایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں دنیا بھر کے عقیدت مندوں کے لیے روحانی مرکز کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔کوٹلی ستیاں کی وادیوں سے اٹھنے والی یہ صدا صرف ایک محفل کی صدا نہیں، ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والی ایک روحانی روایت کی صدا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں