شفا انٹرنیشنل سے آگے…تحریر و تجزیہ: محمد اسد ستی

پاکستان کی سیاست میں بعض خبریں صرف خبریں نہیں ہوتیں، وہ آنے والے واقعات کا پیش خیمہ بھی ہوتی ہیں۔کبھی ایک ملاقات، کبھی ایک خاموش رابطہ، کبھی لہجے میں اچانک آنے والی نرمی، کبھی کسی سخت مؤقف میں معمولی سی گنجائش—اور کبھی ایک بیمار سیاسی رہنما کا جیل سے ہسپتال منتقل ہونا بھی اس سیاسی موسم کی تبدیلی کا ابتدائی اشارہ بن جاتا ہے جس کا اعلان ابھی کسی نے نہیں کیا ہوتا۔عمران خان کے معاملے میں اس وقت شاید ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں۔سپریم کورٹ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے، اہلِ خانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور بیٹوں سے فون پر رابطے کی سہولت بھی دی ہے۔بظاہر یہ ایک طبی، انسانی اور عدالتی معاملہ ہے۔لیکن سوال یہ ہے:
کیا یہ صرف علاج تک محدود رہے گا، یا اس کے پردے کے پیچھے پاکستانی سیاست کے کسی نئے باب کی سطریں بھی لکھی جا رہی ہیں؟
فی الحال کسی باقاعدہ ڈیل یا خفیہ معاہدے کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔اس لیے ڈیل کو خبر کہنا درست نہیں۔
لیکن سیاست صرف سرکاری اعلامیوں سے نہیں چلتی؛ سیاست میں قرائن، لہجے، رابطے، خاموشیاں اور اچانک پیدا ہونے والی آسانیاں بھی بہت کچھ بتاتی ہیںاور یہی وہ مقام ہے جہاں تجزیہ شروع ہوتا ہے۔پہلے قانون کی فائل، پھر سیاست کی فائل اس معاملے کا ایک پہلو ایسا ہے جسے سیاسی شور میں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔جیل سے کسی قیدی کو باہر ہسپتال میں داخل مریض کے طور پر منتقل کرنا عام طور پر ایک باقاعدہ قانونی و انتظامی طریقۂ کار کے تحت ہوتا ہے۔ پاکستان پرزن رولز 1978 کے Rule 197 میں جیل سے باہر ہسپتال منتقلی کے لیے حکومتی منظوری اور IG Prisons کے کردار کا طریقۂ کار موجود ہے۔یعنی عام حالات میں معاملہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ جیل کا افسر فون اٹھائے اور کہے:’’چلیں بھائی، آج ہسپتال ہو آتے ہیں۔‘‘فائل چلتی ہے، طبی ضرورت سامنے آتی ہے، متعلقہ حکام فیصلہ کرتے ہیں، اجازت ہوتی ہے، جیل انتظامیہ عمل درآمد کرتی ہے اور سکیورٹی کا انتظام کیا جاتا ہے۔لیکن عمران خان کے موجودہ معاملے میں ایک بنیادی فرق ہے۔یہاں عدالت نے خود شفا انٹرنیشنل ہسپتال کا نام لے کر منتقلی کا حکم دیا ہے۔لہٰذا اب حکومت اور جیل انتظامیہ کا بنیادی کام عدالتی حکم کی implementation ہے۔اور اگر حکومت کو حکم کے کسی حصے پر قانونی اعتراض یا ابہام محسوس ہوتا ہے تو اس کے لیے بھی راستہ موجود ہے: عدالت سے رجوع کیا جائے، نظرثانی یا ترمیم مانگی جائے۔یہی وجہ ہے کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی طرف سے نجی ہسپتال میں منتقلی کے قانونی پہلو پر نظرثانی/ترمیم کی بات سامنے آئی ہے۔یہاں بھی بات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے قانونی ترتیب کو سمجھنا چاہیے:عدالت حکم دیتی ہے، انتظامیہ اس پر عمل درآمد کرتی ہے؛ اور حکومت اگر قانونی اعتراض رکھتی ہے تو اسی عدالتی نظام کے اندر اس کا ازالہ تلاش کرتی ہے۔یہی آئینی راستہ ہے۔اور شاید یہی بات سب سے زیادہ اطمینان بخش بھی ہے کہ اختلاف ہو تو بھی اداروں کے اندر ہو، اداروں کے باہر نہیں۔اب اصل کہانی شروع ہوتی ہےمیری نظر میں شفا انٹرنیشنل کا واقعہ بذاتِ خود کوئی ’’ڈیل‘‘ نہیں۔
لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ یہ کسی بڑے سیاسی عمل کا ابتدائی مرحلہ بن جائے۔کیسے؟
پاکستان کی سیاست میں بڑے تصفیے عموماً ایک دن میں نہیں ہوتے۔پہلے ماحول بنایا جاتا ہے۔پھر رابطے ہوتے ہیں۔پھر کچھ سختیاں کم ہوتی ہیں۔پھر ملاقاتوں کے راستے کھلتے ہیں۔پھر قانونی امکانات تلاش کیے جاتے ہیں۔پھر سیاسی سرگرمیوں کے لیے کچھ گنجائش پیدا ہوتی ہے۔اور آخر میں کوئی ایسا راستہ نکالا جاتا ہے جسے ہر فریق اپنے اپنے الفاظ میں کامیابی قرار دے سکے۔یعنی اگر مستقبل میں کوئی سیاسی سیٹلمنٹ آتی ہے تو ممکن ہے اس کا آغاز ’’ڈیل‘‘ کے لفظ سے نہ ہو۔اس کا آغاز شاید ’’انسانی بنیادوں‘‘ سے ہو۔پھر ’’طبی سہولت‘‘۔
پھر ’’ملاقات‘‘۔پھر ’’مذاکرات‘‘۔پھر ’’قومی مفاد‘‘۔اور آخر میں قوم کہے:’’اچھا! تو اتنے سال سے مسئلہ صرف یہ تھا کہ ایک دوسرے سے بات نہیں ہو رہی تھی؟‘‘
پاکستانی سیاست کا سب سے دلچسپ سبق
ہماری سیاست کا ایک عجیب مزاج ہے۔جب مذاکرات نہ ہوں تو کہا جاتا ہے:’’یہ لوگ بات نہیں کرنا چاہتے۔‘‘جب مذاکرات شروع ہوں تو کہا جاتا ہے:’’ڈیل ہو رہی ہے۔‘‘جب ملاقات ہو جائے تو کہا جاتا ہے:’’خفیہ ملاقات تھی۔‘‘جب ملاقات کا انکار ہو تو کہا جاتا ہے:
’’انکار بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔‘‘اور جب آخرکار کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو دونوں فریق اعلان کرتے ہیں:’’یہ ڈیل نہیں، قومی مفاد میں سیاسی مفاہمت ہے۔‘‘قوم پھر خاموشی سے چائے کا کپ اٹھاتی ہے اور سوچتی ہے:
’’نام جو مرضی رکھ لیں، ہمیں تو بس یہ بتا دیں کہ ملک کب آگے جائے گا؟‘‘دانش کی ایک بات یہاں بہت معنی رکھتی ہے
تنازع کے حل کے ماہرین کا ایک بنیادی اصول ہے کہ تنازع ہمیشہ جنگ سے ختم نہیں ہوتا، اکثر تنازع کو ختم کرنے کے لیے رابطے کا دروازہ کھولنا پڑتا ہے۔اسی تصور کو سیاسی مفاہمت میں یوں سمجھا جا سکتا ہے:جس دروازے سے اختلاف اندر آیا ہو، ضروری نہیں کہ حل بھی اسی دروازے سے باہر جائے؛ کبھی حل کے لیے ایک نیا دروازہ بنانا پڑتا ہے۔اور شاید اس وقت پاکستان کو بھی اسی نئے دروازے کی ضرورت ہے۔کیونکہ مسلسل محاذ آرائی میں حکومت بھی تھکتی ہے، اپوزیشن بھی، ادارے بھی اور سب سے بڑھ کر عوام بھی۔
اب میری نظر میں اگلا منظرنامہ کیا ہے؟اگر موجودہ واقعات کسی بڑے سیاسی عمل کی طرف جا رہے ہیں تو میری نظر میں یہ عمل مرحلہ وار ہوگا۔
پہلا مرحلہ: صحتعمران خان کو طبی سہولت ملے گی، میڈیکل بورڈ معائنہ کرے گا اور صحت سے متعلق صورتحال واضح ہوگی۔
دوسرا مرحلہ: انسانی و خاندانی سہولتملاقاتوں اور رابطوں میں کچھ آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔تیسرا مرحلہ: سیاسی درجہ حرارت میں کمی
بیانات کی شدت کم ہو سکتی ہے۔ایک دوسرے کے خلاف انتہائی زبان کے بجائے نسبتاً محتاط سیاسی زبان استعمال ہونا شروع ہو سکتی ہے۔
چوتھا مرحلہ: حکومت اور PTI کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔پانچواں مرحلہ: قانونی راستہ
مقدمات، اپیلوں، ضمانتوں، سزاؤں اور دیگر قانونی معاملات میں جو بھی گنجائش آئین و قانون فراہم کرے، اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چھٹا مرحلہ: سیاسی فارمولااگر دونوں طرف سے کوئی قابلِ قبول راستہ نکل آیا تو ممکن ہے ایک ایسا سیاسی انتظام سامنے آئے جسے کوئی ’’ڈیل‘‘ نہ کہے۔کوئی اسے مفاہمت کہے گا۔کوئی قومی استحکام۔کوئی سیاسی اسپیس۔کوئی جمہوری ضرورت۔اور کوئی شاید صرف اتنا کہے:’’بس بھائی، لڑائی بہت ہوگئی، اب کام کرنے دیں۔‘‘سب سے اہم سوال: کیا عمران خان کی سیاسی سرگرمیاں محدود ہو سکتی ہیں؟
یہ میرے نزدیک مستقبل کے منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہے۔ممکن ہے مکمل رہائی فوری راستہ نہ ہو، لیکن سیاسی اسپیس میں محدود نرمی پیدا ہو۔یعنی سزا اپنی جگہ۔مقدمات اپنی جگہ۔قانون اپنی جگہ۔مگر ملاقاتوں، رابطوں اور سیاسی مشاورت کے لیے کچھ گنجائش۔گویا:
جیل کا دروازہ مکمل نہ کھلے، مگر دیوار میں ایک کھڑکی ضرور بنا دی جائے۔حکومت بھی کہہ سکے:قانون اپنی جگہ قائم ہے۔ پی ٹی أئی بھی کہہ سکےقائد کے حقوق بحال ہوئے۔عدالت کہہ سکے:آئینی تقاضے پورے ہوئے۔اور عوام کہیں:چلو جناب، کم از کم ملک نے سانس تو لی!
لیکن ایک خطرہ بھی ہےاگر حکومت اور PTI دونوں نے اپنے اپنے سخت ترین مؤقف پر واپسی اختیار کر لی تو یہی معاملہ دوبارہ محاذ آرائی میں بدل سکتا ہے۔یعنی آج جو دروازہ کھلا ہے، وہ دوبارہ بند بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے اصل امتحان شفا انٹرنیشنل نہیں۔
اصل امتحان سیاسی رویوں کا ہے۔اگر لہجے نرم ہوئے، رابطے بڑھے، ملاقاتیں ہوئیں اور قانونی راستوں کو سیاسی تصادم کے بجائے حل کے لیے استعمال کیا گیا تو سمجھ لیجیے کہ موسم بدل رہا ہے۔لیکن اگر ہر قدم کو سازش، ہر ملاقات کو ڈیل اور ہر رعایت کو شکست سمجھا گیا تو پھر سیاست وہیں واپس پہنچ جائے گی جہاں سے چلی تھی۔
میری سب سے بڑی توقع
میرا اندازہ یہ نہیں کہ کل صبح کوئی اعلان ہوگا:’’حضرات! ڈیل ہوگئی۔‘‘پاکستان میں اتنی سادگی ابھی باقی نہیں رہی۔
زیادہ امکان یہ ہے کہ اگر کوئی بڑا سیاسی راستہ بن رہا ہے تو اس کی علامات پہلے چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں میں ظاہر ہوں گی۔لہجے بدلیں گے۔
ملاقاتیں بڑھیں گی۔بیانات نرم ہوں گے۔قانونی راستوں پر پیش رفت ہوگی۔سیاسی سرگرمیوں کے لیے کچھ گنجائش پیدا ہوگی۔
اور پھر اچانک ایک دن قوم کو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو کل تک ’’ناقابلِ قبول‘‘ کہا جا رہا تھا، آج وہی قومی مفاد بن چکی ہے۔
یہی پاکستانی سیاست کا سب سے دلچسپ باب ہے۔کل کا ناقابلِ قبول، آج کا قابلِ غور؛آج کا قابلِ غور، کل کا قومی مفاد!
اور اگر واقعی کوئی سمجھوتہ ہو گیا؟تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اسے صرف ’’ڈیل‘‘ کے چشمے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
اگر اس کے نتیجے میں سیاسی قیدیوں، سیاسی جماعتوں، عدالتی عمل، سیاسی سرگرمیوں اور جمہوری ماحول کے لیے کوئی قابلِ قبول راستہ نکلتا ہے تو اسے قومی مفاہمت کی طرف ایک قدم بھی سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن شرط ایک ہے:حل آئین کے اندر ہو، قانون کے اندر ہو اور عوام کے سامنے قابلِ دفاع ہو۔خفیہ راستے وقتی سکون دے سکتے ہیں، مستقل سیاسی استحکام نہیں۔
آخر میں ایک سوال
عمران خان کا علاج ہونا چاہیے۔یہ انسانی مسئلہ ہے۔عدالت کا حکم اپنی جگہ محترم ہے۔حکومت کا قانونی مؤقف بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
اور حکومت اگر سمجھتی ہے کہ حکم کے کسی حصے پر قانونی وضاحت درکار ہے تو عدالت سے رجوع کرنا اس کا حق ہے۔لیکن اس سارے معاملے کے پیچھے ایک بڑا سوال بھی کھڑا ہے:
کیا پاکستان اپنی سیاسی لڑائیوں کو ہمیشہ جیتنے اور ہارنے کے ترازو میں تولتا رہے گا، یا کبھی ایسا راستہ بھی نکالے گا جس میں ملک جیت جائے؟
شفا انٹرنیشنل کا دروازہ فی الحال علاج کے لیے کھلا ہے۔لیکن اگر آنے والے دنوں میں اسی دروازے سے ملاقات، رابطہ، مذاکرات، قانونی سہولت اور سیاسی مفاہمت بھی باہر نکلنے لگے تو پھر آج کی خبر محض ایک طبی خبر نہیں رہے گی۔وہ شاید ایک بڑے سیاسی باب کا پہلا جملہ ثابت ہو۔اور پھر کل اگر واقعی سیاسی موسم بدل گیا تو شاید لوگ آج کی اس تحریر کو دوبارہ پڑھیں اور کہیں:
’’اشارہ تو اسی وقت مل گیا تھا، ہم نے اسے صرف ہسپتال کی خبر سمجھ لیا تھا۔‘‘کیونکہ سیاست میں بعض اوقات تاریخ کا پہیہ شور سے نہیں، خاموشی سے گھومتا ہے۔اور اس وقت اسلام آباد میں سب سے زیادہ دلچسپ چیز شاید وہی خاموشی ہے۔وقت پہلے اشارہ دیتا ہے،پھر حالات تصدیق کرتے ہیں،اور آخرکار تاریخ فیصلہ سناتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں