کوٹلی ستیاں شہداء و غازیوں کی سرزمین، 6ستمبر کیا یاد دلاتا ہے؟ تحریر: نوید ستی

نوید ستی

6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا محض ایک دن نہیں، بلکہ یہ عزم، قربانی، وفاداری، شجاعت اور قومی یکجہتی کی ایک ایسی روشن علامت ہے جسے ہر پاکستانی نسل در نسل اپنے سینے میں محفوظ رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1965ء میں وطنِ عزیز کو درپیش ایک بڑے خطرے کے مقابلے میں پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم نے عزم و حوصلے کی ایسی مثال قائم کی جسے ہماری قومی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گایومِ دفاع دراصل ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وطن کی آزادی محض نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے لاکھوں قربانیاں، ماؤں کی دعائیں، بہنوں کے حوصلے، بیواؤں کے صبر اور ان سپوتوں کا لہو شامل ہے جنہوں نے اپنی جانیں وطن کی حفاظت پر نچھاور کر دیں اور جب ہم شہداء اور غازیوں کی بات کرتے ہیں تو کوٹلی ستیاں کا ذکر کیے بغیر یہ داستان مکمل نہیں ہوتی کوٹلی ستیاں، جہاں وطن سے محبت روایت ہےکوٹلی ستیاں کا خطہ قدرتی حسن، بلند پہاڑوں اور دلکش وادیوں کی سرزمین ہونے کے ساتھ ساتھ شہداء اور غازیوں کی سرزمین بھی ہے۔ اس علاقے کے بے شمار سپوتوں نے پاکستان کی مسلح افواج میں شامل ہو کر وطن کے دفاع کا مقدس فریضہ انجام دیا اور آج بھی اس خطے کی ایک بڑی تعداد پاک فوج سے وابستہ ہے۔یہاں فوجی وردی محض ایک لباس نہیں سمجھی جاتی بلکہ اسے عزت، خدمت، قربانی اور وطن سے وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کوٹلی ستیاں کے گھروں میں ایسے خاندان ملتے ہیں جن کی کئی نسلوں نے پاک فوج میں خدمات انجام دیں۔ کسی گھر کا بیٹا سپاہی رہا، کسی کا افسر، کسی نے سرحدوں پر فرائض سرانجام دیے تو کسی نے ملک کے مختلف حساس محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔یہی وجہ ہے کہ کوٹلی ستیاں کے عوام کے لیے پاک فوج سے محبت کوئی وقتی جذبہ نہیں بلکہ نسلوں سے منتقل ہونے والی ایک روایت ہے۔شہادت کا رتبہ، کوٹلی ستیاں کا فخروطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے کوٹلی ستیاں کے شہداء اس دھرتی کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن کی قربانیوں کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ان شہداء کے گھروں میں آج بھی ان کی یادیں زندہ ہیں۔ کہیں والدین اپنے بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، کہیں بہنیں اپنے بھائی کی یاد میں آنسو بہاتی ہیں، کہیں بیوہ اپنے شہید شوہر کی یاد کو زندگی کا سرمایہ بنائے ہوئے ہے اور کہیں بچے اپنے والد کی وردی کو دیکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔شہید صرف ایک فرد نہیں ہوتا، وہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک نسل کی امید بن جاتا ہےکوٹلی ستیاں کے ان شہداء نے ثابت کیا کہ اس خطے کی مٹی میں وطن سے وفاداری کا جذبہ کتنا گہرا ہے۔ انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آنے والی نسلوں کے لیے آزادی، امن اور پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کی غازی بھی اس دھرتی کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں شہداء کے ساتھ ساتھ کوٹلی ستیاں کے غازی بھی اس علاقے کی پہچان ہیں۔ وہ سپوت جنہوں نے وطن کے دفاع کے مختلف محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، جنگی حالات کا سامنا کیا، مشکلات برداشت کیں اور پھر باعزت طور پر وطن واپس آئے، وہ بھی ہماری قومی تاریخ کے ہیرو ہیں۔آج ان میں سے بڑی تعداد اپنی فوجی سروس مکمل کرکے ریٹائر ہو چکی ہے، مگر ان کی وردی اترنے کے باوجود وطن سے محبت کا جذبہ کبھی ریٹائر نہیں ہوایہ سابق فوجی آج بھی اپنے علاقوں میں نوجوان نسل کے لیے ایک مثال ہیں۔ ان کی زندگی نظم و ضبط، حب الوطنی، قربانی اور خدمتِ وطن کا عملی نمونہ ہے۔اعلیٰ عسکری عہدوں تک پہنچنے والے سپوت کوٹلی ستیاں کے لیے یہ بھی باعثِ فخر ہے کہ یہاں سے تعلق رکھنے والے کئی سپوت پاک فوج میں مختلف اعلیٰ ذمہ داریوں اور اہم عسکری عہدوں تک پہنچے اور ملک و قوم کی خدمت کی یہ اس خطے کے عوام کی صلاحیت، جذبے اور وطن سے وابستگی کا ثبوت ہے کہ ایک نسبتاً دور افتادہ اور پہاڑی علاقے کےنوجوانوں نے اپنی محنت، قابلیت اور کردار کے ذریعے پاک فوج میں مقام حاصل کیایہ روایت آج بھی جاری ہے۔ کوٹلی ستیاں کے نوجوان فوج، پولیس اور دیگر قومی اداروں میں شامل ہو کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں یومِ دفاع کے موقع پر ہمیں صرف شہید کی قبر پر پھول نہیں چڑھانے چاہئیں بلکہ ان ماؤں، باپوں، بہنوں، بیواؤں اور بچوں کو بھی سلام پیش کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے پیاروں کو وطن پر قربان کیا۔شہید کا جنازہ اٹھانا آسان نہیں ہوتا، لیکن پاکستان کی تاریخ ان ماؤں کے حوصلے سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے لختِ جگر کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا دیکھ کر بھی کہا”مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔”یہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو زندہ رکھتا ہے 6 ستمبر ہمیں ماضی پر فخر کرنے کے ساتھ مستقبل کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہےآج جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ قوموں کو کمزور کرنے کے لیے معاشی دباؤ، فکری انتشار، جھوٹی اطلاعات، سوشل میڈیا کے ذریعے تقسیم، انتہاپسندی اور داخلی اختلافات جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال ہوتے ہیں اس لیے آج پاکستان کے دفاع کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو قومی وحدت پر غالب نہ آنے دیں۔ فوج اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے، لیکن قوم کا اتحاد بھی ملکی دفاع کی ایک مضبوط دیوار ہے۔1965ء میں پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہوئی اور یہی قومی یکجہتی اس دور کی ایک بڑی قوت بنی۔ سرکاری بیانات میں بھی یومِ دفاع کو قومی اتحاد، عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانی کی علامت قرار دیا گیا ہےآج کوٹلی ستیاں کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے شہداء کی میراث کو کیسے آگےبڑھائیں؟اس کا جواب صرف تقریروں میں نہیں بلکہ کردار میں ہے۔تعلیم حاصل کریں، محنت کریں، قانون کی پاسداری کریں، ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، قومی اداروں کا احترام کریں اور اپنے علاقے کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے اجتماعی سوچ اپنائیں اگر کوٹلی ستیاں کی ایک نسل نے بندوق اٹھا کر سرحدوں کی حفاظت کی تو آج کی نسل قلم، علم، ٹیکنالوجی، کردار اور خدمت کے ذریعے پاکستان کو مضبوط بنا سکتی ہےشہداء کے خون کا قرض صرف یہ کہہ دینے سے ادا نہیں ہوتا کہ ’’شہداء کو سلام‘‘یہ قرض اس وقت ادا ہوگا جب پاکستان مضبوط ہوگا، جب نوجوان مایوسی کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں گے، جب کرپشن اور ناانصافی کے خلاف اجتماعی آواز بلند ہوگی، جب ادارے مضبوط ہوں گے اور جب ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں گےکوٹلی ستیاں کی دھرتی نے پاکستان کو اپنے سپوت دیے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطے کے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے، ان کے خاندانوں کو عزت و احترام دیا جائے اور ان کی خدمات کو قومی تاریخ کا حصہ بنایا جائےآج بھی سبز ہلالی پرچم بلند ہے6 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا فرض ہےآج جب ہم کوٹلی ستیاں کے پہاڑوں، وادیوں اور آبادیوں کی طرف دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ خطہ واقعی شہداء اور غازیوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے وہ سپوت جو آج دنیا میں موجود نہیں، ان کی قبریں ہمیں پکارتی ہیں کہ پاکستان کی حفاظت، ترقی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرواور وہ غازی جو آج ہمارے درمیان موجود ہیں، ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ وطن کی خدمت کا جذبہ وردی تک محدود نہیں ہوتاکوٹلی ستیاں کے شہداء کو سلام، غازیوں کو سلام، پاک فوج کے جوانوں کو سلام، اور ان عظیم ماؤں کو سلام جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنے لختِ جگر قربان کیےآئیے 6 ستمبر کو صرف ایک قومی دن کے طور پر نہیں بلکہ ایک عہد کے طور پر منائیں:ہم پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے متحد رہیں گےشہداء ہمارا فخر ہیں، غازی ہمارا سرمایہ ہیں اور پاکستان ہماری پہچان ہے۔پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں