ستمبر11، 2001 کا دن انسانی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ اور بھیانک موڑ تھا جس نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ آج اس المناک واقعے کو 25 سال بیت چکے ہیں۔ پچیس برس کا یہ طویل عرصہ جہاں اس سانحے کے زخموں کی یاد دلاتا ہے، وہاں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ اس ایک واقعے نے ہماری عالمی سیاست، معیشت اور معاشرت کو کس طرح تبدیل کیا۔
سانحہ نائین الیون اور فوری اثرات :اس دن نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں تقریباً تین ہزار کے قریب بے گناہ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سانحے کے فوراً بعد دنیا ایک دم بدل گئی۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ” (War on Terror) کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں افغانستان اور بعد میں عراق میں جنگیں شروع ہوئیں۔ ان جنگوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں نگل لیں اور کئی ممالک کو عدم استحکام کا شکار کر دیا۔
مسلم دنیا اور اسلامو فوبیا کا عرو ج : نا ئین الیون کا سب سے گہرا اور منفی اثر مسلم دنیا پر پڑا۔ دہشت گردی کو ایک مخصوص مذہب سے جوڑنے کی کوششوں کے باعث مغرب میں “اسلامو فوبیا” (Islamophobia) کی ایک خطرناک لہر چلی۔ عام، پرامن مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ مساجد پر حملے، حجاب پر پابندیاں اور نسلی و مذہبی امتیاز کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔ تاہم، اسی دور میں بہت سے مسلمانوں نے اسلام کا حقیقی اور پرامن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے بھرپور کوششیں بھی شروع کیں۔
پاکستان پر اثرات اور قربانیاں:پاکستان اس عالمی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا، جس کی اسے بہت بھاری قیمت چکانی پڑی۔ نائین الیون کے بعد پاکستان کو بدترین دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ عسکری آپریشنز، خودکش دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں 80 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ملکی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا۔ آج 25 سال بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کامیاب جنگ لڑ کر ملک میں امن بحال کیا ہے، جو کہ ایک بے مثال قربانی ہے۔
عالمی نظام اور سفری قوانین میں تبدیلی: پچھلے 25 سالوں میں دنیا بھر میں سیکیورٹی اور نگرانی کا ایک ایسا نظام نافذ ہو چکا ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہوائی اڈوں پر سخت ترین چیکنگ، ویزا قوانین کی سختی اور ڈیجیٹل نگرانی اب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ نائین الیون نے بین الاقوامی تعلقات کو بھی ایک نئی شکل دی، جہاں طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونا شروع ہوا اور چین و روس جیسے ممالک نے عالمی منظر نامے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔
25 سال بعد،ہم نے کیا سیکھا؟:آج جب ہم اس واقعے کے 25 سال مکمل ہونے پر ماضی کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگیں اور تشدد کبھی بھی پائیدار امن کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے صرف بندوق کے زور پر مسائل حل کرنے کی کوشش کی، جبکہ اس کے پیچھے چھپے ہوئے اصل اسباب جیسے کہ غربت، ناانصافی، جہالت اور سیاسی محرومیوں کو نظرانداز کیا گیا۔آج کی دنیا کو نائین الیون کی پچیسویں برسی پر اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ پائیدار امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ مکالمے (Dialogue)، انصاف اور ایک دوسرے کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ دنیا کو نفرتوں کی دیواریں گرانے اور محبت کے پل تعمیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پرامن اور محفوظ دنیا دی جا سکے۔
نائین الیون کے 25 سال: نفرتوں کی دیواریں گرا کر محبت کے پل تعمیر کرنے کی ضرورت







