کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز)حلقہ بندیوں بارے وجوہات پر مبنی واضح حکم جاری کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ، سابق امیدوار برائے قومی و صوبائی اسمبلی و معروف سیاسی و سماجی شخصیت جاوید اقبال ستی کی جانب سے حلقہ بندیوں کے خلاف دائر آئینی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عدالت نے متعلقہ ڈیلیمیٹیشن اتھارٹی کو ہدایت جاری کی ہے کہ جاوید اقبال ستی کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو الگ، آزادانہ اور قانون کے مطابق سن کر ان پر واضح اور وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق حلقہ بندیوں کے معاملے پر دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاوید اقبال ستی کے صاحبزادے سعد جاوید ستی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے عدالت کے روبرو دلائل پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حلقہ بندی کے عمل کے دوران قانونی تقاضوں اور بنیادی اصولوں کو پوری طرح ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حلقہ بندی کرتے وقت جغرافیائی حدود، آبادی کی یکسانیت، عوامی سہولت، ذرائع آمدورفت، انتظامی وحدت اور زمینی حقائق جیسے اہم عوامل کو پیش نظر رکھنا ضروری تھادرخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جاوید اقبال ستی نے حلقہ بندی کے حوالے سے متعدد اہم اور بنیادی اعتراضات باقاعدہ طور پر متعلقہ اتھارٹی کے سامنے پیش کیے تھے، تاہم ان اعتراضات کو انفرادی طور پر زیرِ غور لانے اور ہر اعتراض پر الگ وجوہات کے ساتھ فیصلہ کرنے کے بجائے انہیں ایک عمومی حکم کے ذریعے نمٹا دیا گیاسعد جاوید ستی ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کے اعتراضات کو قانون کے تقاضوں کے مطابق الگ سے سنا جائے اور متعلقہ اتھارٹی کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر اعتراض کا جائزہ لے کر اس پر واضح، مدلل اور وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کرےعدالت نے معاملے کی سماعت کے بعد ڈیلیمیٹیشن اتھارٹی کو ہدایت کی کہ جاوید اقبال ستی کے اعتراضات کو الگ اور آزادانہ طور پر سنا اور جانچا جائے اور مکمل سماعت کے بعد الگ، واضح اور وجوہات پر مبنی حکم جاری کیا جائےقانونی ماہرین کے مطابق حلقہ بندی کے معاملات میں اعتراضات پر مناسب غور اور وجوہات پر مبنی فیصلہ اہم قانونی تقاضا ہے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلوں میں بھی حلقہ بندی کے دوران جغرافیائی وحدت، عوامی سہولت، ذرائع مواصلات، انتظامی حدود اور آبادی سے متعلق عوامل کو اہم قرار دیا گیا ہےدریں اثناء جاوید اقبال ستی نے عدالتی پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ یہ تحصیل کوٹلی ستیاں کے عوام کے حقِ سماعت اور منصفانہ حلقہ بندی کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ علاقے کے عوام کے بنیادی حقوق، عوامی سہولت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے
حلقہ بندیوں بارے وجوہات پر مبنی واضح حکم جاری کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







