مہنگا جہاز اور مہنگائی کی چکی میں پستا پنجاب ،تحریرنوید ستی

مہنگا جہاز

یہ کیسا وقت ہے کہ ایک طرف پنجاب کے عام آدمی کے لیے آٹا، بجلی، پٹرول، گیس، علاج، تعلیم اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کا خرچ مسلسل اس کی کمر توڑ رہا ہے، دوسری طرف صوبائی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی مہنگے لگژری جہاز کی خریداری نے عوامی ترجیحات، سرکاری اخراجات اور مالی شفافیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔فروری 2026 میں پنجاب حکومت کے ایک گلف اسٹریم G500 جہاز کے حصول کی خبریں سامنے آئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس طیارے کی اندازاً قیمت 38 سے 42 ملین ڈالر، یعنی پاکستانی روپے میں تقریباً 10 سے 12 ارب روپے کے درمیان بتائی گئی۔ ابتدا میں سرکاری سطح پر اس معاملے پر خاموشی رہی، تاہم بعد ازاں حکومتی نمائندوں کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ یہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا اثاثہ ہے اور اسے مستقبل کے ’’ایئر پنجاب‘‘ منصوبے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ صوبے کے انتظامی، ہنگامی یا سرکاری سفری تقاضوں کے لیے طیارہ ضروری ہے تو اسے عوام کے سامنے مکمل حساب پیش کرنا چاہیے۔ طیارے کی اصل خریداری قیمت کیا ہے؟ خریداری کس طریقہ کار کے تحت ہوئی؟ رقم کس بجٹ سے ادا کی گئی؟ سالانہ مرمت، ایندھن، پائلٹ، عملے، پارکنگ اور انشورنس پر کتنے اخراجات ہوں گے؟ اسے کتنے سرکاری دوروں کے لیے استعمال کیا جائے گا؟ اور ’’ایئر پنجاب‘‘ کے منصوبے میں اس کا معاشی کردار کیا ہوگا؟حکومتی مؤقف اپنی جگہ، لیکن شفافیت کا تقاضا یہی ہے کہ اربوں روپے کے اس منصوبے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ مئی 2026 میں ایک وکیل کی جانب سے وزیراعلیٰ کے زیرِ استعمال گاڑیوں، دوروں اور G500 طیارے سے متعلق معلومات مانگی گئیں، تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے پبلک انفارمیشن افسر نے بعض معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا اور متعلقہ معلومات کو قانون کے تحت مستثنیٰ قرار دیا۔ دوسری طرف حکومت کے ذمہ دار نمائندوں نے اس خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے، طیارہ حکومت کا اثاثہ ہے اور یہ سابق طیارے کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہوگا۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ طیارہ ’’ایئر پنجاب‘‘ کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ مؤقف اگر درست ہے تو حکومت کے لیے سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ وہ مکمل کاروباری اور مالی منصوبہ عوام کے سامنے رکھ دے۔ اگر طیارہ واقعی صوبے کے لیے آمدن پیدا کرنے، ہنگامی خدمات، سرکاری سفر اور مستقبل کی ایئر لائن کے لیے استعمال ہونا ہے تو اس کے متوقع فوائد، اخراجات اور ٹائم لائن بھی سامنے آنی چاہیے۔کیونکہ عوام اب صرف دعوے نہیں، نتائج اور حساب دیکھنا چاہتے ہیں پنجاب کا عام شہری جب بجلی کا بھاری بل ہاتھ میں لے کر سوچتا ہے کہ گھر کا چولہا کیسے جلایا جائے، جب والدین بچوں کی فیس پوری کرنے کے لیے پریشان ہوتے ہیں، جب مریض مہنگی ادویات کے اخراجات سے نبردآزما ہوتا ہے، جب دیہاڑی دار مزدور روزگار کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، تو اربوں روپے کے ایک لگژری طیارے کی خبر لازماً اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ریاست کی ترجیحات کیا ہیں؟ریاستی وسائل محدود ہوں تو ہر حکومت کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ پہلے کیا کیا جائے۔ نئی شاہراہ؟ دیہی علاقوں کی رابطہ سڑکیں؟ بنیادی مراکز صحت؟ سرکاری اسکول؟ صاف پانی؟ سیوریج؟ روزگار کے منصوبے؟ کسانوں کے لیے سہولت؟ یا اعلیٰ حکام کے لیے مہنگے سفری ذرائع؟ترجیحات کا یہ تعین ہی دراصل اچھی حکمرانی کا امتحان ہوتا ہےاور یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر طیارہ واقعی پنجاب حکومت کا مستقل اثاثہ ہے تو اس کی ملکیت وزیراعلیٰ کی ذات سے منسلک نہیں ہونی چاہیے۔ آج ایک حکومت ہے، کل دوسری حکومت ہوگی؛ آج ایک وزیراعلیٰ ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ سرکاری اثاثے شخصیات کے نہیں بلکہ عوام کے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس طیارے کے استعمال کے لیے واضح قواعد، لاگ بک، اخراجات اور آڈٹ کا نظام ہونا چاہیے۔ستمبر 2026 میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے لندن کے ایک نجی سفر کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کرنے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سفر کے تقریباً 2 کروڑ 75 لاکھ روپے اپنی جیب سے ادا کیے، جبکہ طیارہ وزیراعلیٰ کا ذاتی نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا ہے۔ یہ وضاحت بھی عوامی بحث کا ایک اہم حصہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ سرکاری اثاثے کے نجی یا سرکاری استعمال کے اصول کیا ہیں، ادائیگی کس مد میں ہوئی، اور اس کا مکمل آڈٹ کیسے ہوتا ہے۔پنجاب جیسے بڑے صوبے میں وزیراعلیٰ کے لیے تیز رفتار سفری سہولت کی انتظامی ضرورت کا تصور ناقابلِ فہم نہیں۔ ہنگامی حالات، قدرتی آفات، دور دراز علاقوں کے دورے اور اہم سرکاری ذمہ داریاں اپنی جگہ موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اربوں روپے کا لگژری جہازہی واحد راستہ تھا؟اگر حکومت کے پاس اس سوال کا مضبوط معاشی اور انتظامی جواب موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔کیونکہ جمہوریت میں حکومت صرف یہ نہیں کہتی کہ ’’ہم نے کیا خریدا‘‘؛ اسے یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ کیوں خریدا، کتنے میں خریدا، کس کے فائدے کے لیے خریدا اور عوام کو اس سے کیا فائدہ ہوگا۔آج پنجاب کا غریب آدمی کسی لگژری جہاز کا مخالف یا حامی ہونے سے زیادہ اپنے گھر کے بجٹ کا فکرمند ہے۔ اسے اس بات سے غرض ہے کہ آٹا سستا ہو، بجلی کا بل قابلِ برداشت ہو، بچوں کو معیاری تعلیم ملے، اسپتال میں علاج دستیاب ہو، سڑکیں تعمیر ہوں، پینے کا صاف پانی ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔اس لیے حکومت کو چاہیے کہ طیارے کی خریداری کو سیاسی بحث بنانے کے بجائے اسے شفافیت کا ماڈل بنائےطیارے کی مکمل لاگت، خریداری کا معاہدہ، فنڈنگ کا ذریعہ، استعمال کا ضابطہ، سالانہ اخراجات اور متوقع مالی فوائد عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ اسمبلی میں تفصیلی بحث ہو، آڈٹ کے ذریعے اخراجات کی جانچ ہو اور سرکاری اثاثے کے استعمال کے لیے واضح قواعد بنائے جائیں یہی وہ طریقہ ہے جس سے تنقید بھی حقائق کی بنیاد پر ہوگی اور حکومت کا مؤقف بھی مضبوط ہوگا۔آخر میں سوال صرف ایک جہاز کا نہیں۔سوال یہ ہے کہ ریاست کے وسائل کا اصل مالک کون ہےجواب واضح ہے: عوام حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، وزرائے اعلیٰ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، مگر عوام کا پیسہ عوام ہی کا رہتا ہے۔ اس لیے حکمرانوں کی شان و شوکت سے زیادہ اہم عام شہری کے گھر کا چولہا ہے، سرکاری اسکول میں بیٹھا بچہ ہے، سرکاری اسپتال میں علاج کا منتظر مریض ہے اور وہ مزدور ہے جو دن بھر محنت کے بعد شام کو اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی لے جانے کی کوشش کرتا ہےجہاز آسمان میں اڑتے ہیں، مگر حکومتوں کا اصل امتحان زمین پر ہوتا ہےاور پنجاب کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے مہنگے طیارے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں