ڈاکٹر ذوالفقار ستی کی اپنی مٹی سے وفا: تحریر :بختاور ستی

ڈاکٹر ذوالفقار ستی

کچھ لوگ عہدے کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں، اور کچھ اپنے عمل سے عہدے کو بڑا بنا دیتے ہیں۔زندگی میں جب انسان کامیابی کی منزل تک پہنچتا ہے تو اس کے سامنے کئی راستے کھل جاتے ہیں۔ بڑے شہر، بہتر سہولیات، آسان راستے اور آرام دہ زندگی اکثر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر اپنی مٹی سے محبت رکھنے والے لوگ ان راستوں کے ہجوم میں بھی اپنے گاؤں، اپنے شہر اور اپنے لوگوں کو نہیں بھولتے۔ایسے لوگ دراصل اپنی کامیابی کا مطلب بدل دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کامیاب ہونا صرف ایک بڑا عہدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی قابلیت کو وہاں استعمال کرنا ہے جہاں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہو۔ڈاکٹر ذوالفقار ستی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے سامنے بڑے شہروں میں جانے کے مواقع اور نسبتاً آسان زندگی کے راستے موجود تھے، مگر انہوں نے اپنی مٹی کو ترجیح دی۔ انہوں نے کوٹلی ستیاں کو صرف اپنا آبائی علاقہ نہیں سمجھا بلکہ اپنی پیشہ ورانہ خدمت کا میدان بھی بنایا۔31 مارچ 2006 کو محکمہ صحت میں جوائننگ دینے والے ڈاکٹر ذوالفقار ستی آج تقریباً دو دہائیوں کی سروس کے بعد THQ ہسپتال کوٹلی ستیاں میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔یہ عہدہ بظاہر ایک سرکاری ذمہ داری ہے، مگر کوٹلی ستیاں جیسے پہاڑی علاقے میں اس ذمہ داری کی نوعیت کچھ مختلف ہے۔یہاں فیلڈ ورک صرف ایک سرکاری اصطلاح نہیں۔ یہ دشوار گزار پہاڑی راستوں، دور دراز آبادیوں، محدود سہولیات اور مسلسل سفر کا نام ہے۔خاص طور پر ڈینگی کے خلاف جنگ میں صرف دفتر میں بیٹھ کر فائلیں دیکھنا کافی نہیں۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب افسر خود فیلڈ میں جائے، ٹیموں کی کارکردگی دیکھے، لوگوں سے ملے، مسائل سمجھے اور انہیں ڈینگی سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرے۔ڈاکٹر ذوالفقار ستی اسی فیلڈ ورک کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ وہ ڈینگی کے حوالے سے مختلف علاقوں میں جا کر خود نگرانی کرتے، فیلڈ ٹیموں کا جائزہ لیتے اور عوام میں آگاہی پیدا کرتے ہیں۔یہ پہاڑ ہیں، یہاں راستے آسان نہیں۔ مگر شاید خدمت کا راستہ بھی ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر فیلڈ کی رپورٹ دیکھنا آسان ہے، لیکن انہی پہاڑی راستوں پر خود چل کر عوام تک پہنچنا ایک مختلف طرزِ عمل ہے۔یہی وہ فرق ہے جو ایک عہدے دار اور ایک خدمت گزار کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔کوٹلی ستیاں کے لوگ اس بات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ اپنے علاقے میں رہ کر کام کرنے کی کیا اہمیت ہے۔ جب کوئی ڈاکٹر، افسر یا استاد اپنی صلاحیتیں اپنے ہی علاقے کے لوگوں کے لیے وقف کرتا ہے تو اس کا فائدہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پوری آبادی کو پہنچتا ہے۔ڈاکٹر ذوالفقار ستی کی تقریباً دو دہائیوں پر محیط سرکاری سروس اور آج بھی اپنے علاقے میں خدمات انجام دینا اسی وابستگی کی ایک مثال ہے۔اپنی مٹی سے کچھ لوگ عہدے کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں، اور کچھ اپنے عمل سے عہدے کو بڑا بنا دیتے ہیں۔زندگی میں جب انسان کامیابی کی منزل تک پہنچتا ہے تو اس کے سامنے کئی راستے کھل جاتے ہیں۔ بڑے شہر، بہتر سہولیات، آسان راستے اور آرام دہ زندگی اکثر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر اپنی مٹی سے محبت رکھنے والے لوگ ان راستوں کے ہجوم میں بھی اپنے گاؤں، اپنے شہر اور اپنے لوگوں کو نہیں بھولتے۔ایسے لوگ دراصل اپنی کامیابی کا مطلب بدل دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کامیاب ہونا صرف ایک بڑا عہدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی قابلیت کو وہاں استعمال کرنا ہے جہاں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہو۔ڈاکٹر ذوالفقار ستی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے سامنے بڑے شہروں میں جانے کے مواقع اور نسبتاً آسان زندگی کے راستے موجود تھے، مگر انہوں نے اپنی مٹی کو ترجیح دی۔ انہوں نے کوٹلی ستیاں کو صرف اپنا آبائی علاقہ نہیں سمجھا بلکہ اپنی پیشہ ورانہ خدمت کا میدان بھی بنایا۔31 مارچ 2006 کو محکمہ صحت میں جوائننگ دینے والے ڈاکٹر ذوالفقار ستی آج تقریباً دو دہائیوں کی سروس کے بعد THQ ہسپتال کوٹلی ستیاں میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔یہ عہدہ بظاہر ایک سرکاری ذمہ داری ہے، مگر کوٹلی ستیاں جیسے پہاڑی علاقے میں اس ذمہ داری کی نوعیت کچھ مختلف ہے۔یہاں فیلڈ ورک صرف ایک سرکاری اصطلاح نہیں۔ یہ دشوار گزار پہاڑی راستوں، دور دراز آبادیوں، محدود سہولیات اور مسلسل سفر کا نام ہے۔خاص طور پر ڈینگی کے خلاف جنگ میں صرف دفتر میں بیٹھ کر فائلیں دیکھنا کافی نہیں۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب افسر خود فیلڈ میں جائے، ٹیموں کی کارکردگی دیکھے، لوگوں سے ملے، مسائل سمجھے اور انہیں ڈینگی سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرے۔ڈاکٹر ذوالفقار ستی اسی فیلڈ ورک کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ وہ ڈینگی کے حوالے سے مختلف علاقوں میں جا کر خود نگرانی کرتے، فیلڈ ٹیموں کا جائزہ لیتے اور عوام میں آگاہی پیدا کرتے ہیں۔یہ پہاڑ ہیں، یہاں راستے آسان نہیں۔ مگر شاید خدمت کا راستہ بھی ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر فیلڈ کی رپورٹ دیکھنا آسان ہے، لیکن انہی پہاڑی راستوں پر خود چل کر عوام تک پہنچنا ایک مختلف طرزِ عمل ہے۔یہی وہ فرق ہے جو ایک عہدے دار اور ایک خدمت گزار کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔کوٹلی ستیاں کے لوگ اس بات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ اپنے علاقے میں رہ کر کام کرنے کی کیا اہمیت ہے۔ جب کوئی ڈاکٹر، افسر یا استاد اپنی صلاحیتیں اپنے ہی علاقے کے لوگوں کے لیے وقف کرتا ہے تو اس کا فائدہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پوری آبادی کو پہنچتا ہے۔ڈاکٹر ذوالفقار ستی کی تقریباً دو دہائیوں پر محیط سرکاری سروس اور آج بھی اپنے علاقے میں خدمات انجام دینا اسی وابستگی کی ایک مثال ہے۔اپنی مٹی سے جڑے رہنا شاید آسان فیصلہ نہ ہو، لیکن یہی فیصلے بعض اوقات انسان کو لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتے ہیں۔کوٹلی ستیاں کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو یہاں کے مسائل کو دور بیٹھ کر نہیں بلکہ اپنے درمیان رہ کر سمجھیں، پہاڑی راستوں کی دشواری کو خود محسوس کریں اور اپنی ذمہ داری کو محض نوکری نہیں بلکہ خدمت سمجھ کر ادا کریں۔آخرکار انسان اپنے عہدے سے نہیں، اپنے کردار سے یاد رکھا جاتا ہے۔اور شاید اپنی مٹی کا سب سے بڑا قرض یہی ہے کہ جب آپ کے پاس اختیار، علم اور صلاحیت آئے تو اسے اپنی مٹی اور اپنے لوگوں کے کام میں لائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں