کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز،نوید ستی سے) پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئے ضلع مری کی تحصیل کوٹلی ستیاں میں دو یونین کونسلز کی حلقہ بندیوں کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا اور ساتھ ہی انتخابی عمل روکنے کی استدعا بھی کر دی گئی تفصیلات کے مطابق کوٹلی ستیاں کی یونین کونسل نمبر 8 اور 9 کی مبینہ طور پر غیر منصفانہ تقسیم اور حلقہ بندی اتھارٹی کی جانب سے دائر کیے گئے اعتراضات مسترد کیے جانے کے فیصلے کو موضع گھنوئیاں، چھینٹ اور چک چھینٹ کے رہائشیوں راجہ مطیح الرحمان ستی، راجہ ظفر اقبال اور راجہ ریاض المحمود ستی نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا ہےدرخواست گزاروں کی جانب سے راجہ شوکت ستی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے ذریعے دائر کی گئی رٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یونین کونسل نمبر 8 اور 9 کی حالیہ حلقہ بندی مقررہ قانونی اصولوں، زمینی حقائق اور جغرافیائی صورتحال کو مدنظر رکھے بغیر کی گئی، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےرٹ پٹیشن میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حلقہ بندی کے سلسلے میں مرتب کی جانے والی ابتدائی فہرستیں 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں، جبکہ 2023 کی مردم شماری قومی اقتصادی کونسل سے منظور شدہ ہے اور حلقہ بندی سے متعلق قانون کے تحت نئی حلقہ بندی کے لیے آخری منظور شدہ مردم شماری کو بنیاد بنایا جانا چاہیے تھا۔درخواست گزاران کے مطابق 2023 کی مردم شماری کو نظرانداز کرتے ہوئے پرانی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندی کرنا نہ صرف قانونی تقاضوں کے منافی ہے بلکہ اس سے آبادی کی موجودہ تعداد، جغرافیائی پھیلاؤ اور مقامی آبادی کی ضروریات کی درست عکاسی بھی نہیں ہوتی۔رٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ حلقہ بندی کے دوران علاقے کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال، آبادیوں کے باہمی فاصلے، آمدورفت کے مسائل اور شہریوں کو پیش آنے والی عملی مشکلات کو بھی مناسب طور پر ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ کوٹلی ستیاں کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں یونین کونسلز کی حدود متعین کرتے وقت محض نقشے یا آبادی کےاعدادوشمار کافی نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عوامی سہولت کو بھی بنیادی اہمیت دی جانی چاہیےدرخواست میں حلقہ بندی اتھارٹی کے سامنے پیش کیے گئے اعتراضات کو مسترد کیے جانے کے فیصلے کو بھی چیلنج کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حلقہ بندی کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے قانون، 2023 کی منظور شدہ مردم شماری،جغرافیائی صورتحال اور عوامی سہولت کے اصولوں کے مطابق درست کیا جائے عدالت سے مزید استدعا کی ہے کہ جب تک یونین کونسل نمبر 8 اور 9 کی حلقہ بندی قانون اور زمینی حقائق کے مطابق درست نہیں کی جاتی، تب تک ان یونین کونسلز کی حدود سے متعلق ہر قسم کا ریکارڈ اور آئندہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق انتخابی عمل روکنے کے احکامات صادر کیے جائیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ قانونی پیچیدگی اور عوامی مشکلات سے بچا جا سکےعلاقہ مکینوں نے ہائیکورٹ سے امید ظاہر کی ہے کہ عدالتِ عالیہ تمام قانونی و آئینی تقاضوں، منظور شدہ مردم شماری اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے معاملے کا جائزہ لے گی اور مقامی آبادی کے حقوق و مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا یاد رہے کے حکومت پنجاب نے 15دسمبر سے15 جنوری کے دوران بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کر رکھا ہے
حلقہ بندیاں چیلنج ،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







