پشاور میں دلخراش واقعہ، اسکول کی چھت گرنے سے 33 بچے اور 2 ٹیچرز جاں بحق

بچےجاں بحق

پشاور(کوہسارنیوز)پشاور میں دلخراش واقعہ، اسکول کی چھت گرنے سے 33 بچے اور 2 ٹیچرز جاں بحق،واقعہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آیا ہے۔ جہاں اسکول کی چھت گرنے سے طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے
ریسکیو حکام کے مطابق پشاور کی دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے سے 35 افراد جاں بحق جبکہ 52 زخمی ہوگئے، جاں بحق اور زخمیوں میں طلبا اور اساتذہ شامل ہیں۔ جاں بحق تمام بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال تک ہے۔
انچارج ریسکیو بلال احمد کا کہنا ہے کہ اب تک ملبے سے 40 سے زائد بچوں کونکال لیا گیا، 16 ایمبولینسز اور ریسکیو اہلکار حادثے کی جگہ موجود ہیں، صبح 8:48 پر کال موصول ہوئی، 5 منٹ میں ٹیمیں پہنچ گئی تھیں۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید کا کہنا ہے کہ 3 منزلہ عمارت میں اوپر نیچے 3 کلاس روم بنائے گئے تھے۔ سب سے نیچے والے کلاس روم میں 45، اس سے اوپر 40 اور سب سے اوپر کلاس روم میں 30 بچے موجود تھے ۔ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ ایف آر درج کر کے مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ پہلے پیریڈ کے بعد زوردار آواز سنائی دی، 3 کلاسز ایک ساتھ زمین بوس ہو گئیں۔ کہا اسکول میں پلے گروپ سے نویں کلاس تک تقریباً 400 بچے زیرتعلیم تھے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے واقعہ میں قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور ان کے لیے صبر جمیل و زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
سانحےمیں جاں بحق ہونےوالے بچوں کی شناخت ہوگئی،جاں بحق افراد میں 6 سے 14 سال تک کے بچے شامل ہیں۔ 33 لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال، 2 لاشیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔
جاں بحق بچوں میں حلیمہ، زکریاخان، مدیحہ، موسیٰ، ابراہیم، کاشف نجیب، اعظم، عبدالبصیر، عظیم اللہ، زبیر خان، شاکراللہ،عظیم اللہ،احمدان، ابوذر،ساحل خان، محمد، مبشر، حمید، ابرار، صنم خان، عثمان، اویس، عزیر اور عمران سمیت دیگر بچے شامل ہیں۔
گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی اسکول واقعے پراظہارِ افسوس کرتے ہوئے ایجوکیشن ایڈوائزر کو واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
فیصل کریم کنڈی نے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور خیبر پختونخوا کے تمام تعلیمی اداروں کا اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کرانے کا حکم بھی دیدیا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ بچوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، تعلیمی اداروں میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں، زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔
اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کے بعد فوج اور دیگر ریسکیو اداروں کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ پاک فوج کے جوان دیگر ریسکیو اور دیگر ریلیف اداروں کے ہمراہ شانہ بشانہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
ملبے میں دبے بچوں اور دیگر اسکول اسٹاف کو ریسکیو کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ پاک فوج اور دیگر ریسیکو اداروں کے جوان ملبے میں دبے بچوں اور دیگر اسٹاف کو نکال کر اسپتال منتقل کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں