کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز) کوٹلی ستیاں کے مشہور زیادتی کیس میں عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان بری کر دیئے، 8 اکتوبر 2026 کو جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل فاضل بنچ نے ملزمان کی جانب سے دائر کردہ کریمنل اپیل کی سماعت کی دورانِ سماعت ملزمان کی جانب سے معروف قانون دان ابصار الحق ستی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے دلائل دیے اور کیس کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل اور تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیایہ مقدمہ تحصیل کوٹلی ستیاں کے علاقے میں 7 اپریل 2024 کو پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق تھا، جس میں ایک خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں درج ذیل دو افراد نامزد تھے:سرمد نسیم ولد محمد نسیم)احسن جلال ولدمحمد جلال)قبل ازیں، نچلی عدلت کی جانب سے جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو عمر بھر (جب تک وہ زندہ ہیں) جیل میں گزارنے کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے خلاف ملزمان نے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی تھی 8 اکتوبر 2026 کو ہوئی سماعت میں جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس طارق محمود باجوہ کے بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزمان کے وکیل ابصار الحق ستی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ کی موثر پیروی اور دلائل کے بعد عدالت نے پراسیکیوشن کے الزامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سرمد نسیم اور احسن جلال کی اپیلیں منظور کر لیں اور دونوں ملزمان کو فوری طور پر بری کرنے کا حکم دے دیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس اکیس میں وقوعے کی ایک عدد ویڈیو بھی بنی تو پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے تصدیق شدہ تھی اس کے بوجو دنیا کو موثر انداز میں پیش کرنے پر دونوں ملزمان کو ب عزت بری کر دیا
کوٹلی ستیاں زیادتی کیس، عمر قید کی سزائیں کالعدم ، دونوں ملزمان بری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







