جامع مسجد نوری برج میں عظیم الشان روحانی محفل کا انعقادپیر انور جنید شاہ گھمکول شریف کی خصوصی شرکت

محفل

کوٹلی ستیاں(کوہسارنیوز) جامع مسجد نوری برج میں عظیم الشان روحانی محفل کا انعقادپیر انور جنید شاہ گھمکول شریف کی خصوصی شرکت درنوئیاں برج کی معروف سماجی و کاروباری شخصیات شکیل ستی برادران، سعید ستی، چیف حفیظ ستی اور اظہر ستی کی والدہ مرحومہ کا ختمِ چہلم جامع مسجد نوری برج میں عظیم الشان روحانی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں پیر انور جنید شاہ گھمکول شریف ، پیر نظیر قاسم کا والدین کے حقوق، مقام و مرتبے اور اطاعت و فرمانبرداری پر ایمان افروز خطاب، علماء کرام، سیاسی و سماجی شخصیات اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد میں شرکت کوٹلی ستیاں (نوید ستی سے) کوٹلی ستیاں کے علاقے درنوئیاں برج کی معروف کاروباری و سماجی شخصیات شکیل ستی برادران، سعید ستی، چیف حفیظ ستی اور اظہر ستی کی والدہ محترمہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے ختمِ چہلم کی ایک عظیم الشان روحانی و بابرکت محفل جامع مسجد نوری برج درنوئیاں برج میں منعقد ہوئی، جس میں علاقہ بھر سے مقتدر علماء کرام، مشائخ عظام، سیاسی و سماجی شخصیات، معززین علاقہ اور اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی محفل کی صدارت پیر طریقت رہبر شریعت پیر نظیر قاسم نے کی، جبکہ خصوصی دعا کی سعادت قاسم فیضان ذندہ پیر گھمکول شریف پیر انور جنید شاہ نے حاصل کی۔ محفل کا انعقاد علامہ قاری عتیق الرحمن عباسی خطیب مرکزی جامع مسجد برج کی زیر سرپرستی کیا گیا۔ اس روحانی اجتماع میں علامہ معاذ ارشد اور علامہ نبیل نقشبندی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے اور خصوصی نعتیہ کلام پیش کیا، جس سے محفل کا ماحول روحانی کیفیت سے معطر ہوگیاپیر طریقت رہبر شریعت پیر انور جنید شاہ کی درنوئیاں برج آمد پر شرکاء اور اہل علاقہ کی جانب سے ان کا پُرتپاک اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ معروف سماجی و سیاسی رہنما اور نائب صدر جماعت اہل سنت تحصیل کوٹلی ستیاں ابرار حسین ستی نے پیر انور جنید شاہ کو گلدستہ پیش کیا اور درنوئیاں برج تشریف آوری پر ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔محفل میں شرکت کرنے والے مقتدر علماء کرام میں علامہ ثناء الحق راجہ، علامہ تصور علی سلطانی، علامہ آصف چشتی، علامہ اصغر علی، علامہ مرسلین بادشاہ، قاری محبوب الحق، علامہ حبیب الرحمن عباسی، قاری کاشان، علامہ کامران زرین سیالوی، قاری سفیر، قاری شکیل احمد چشتی، قاری عابد حسین، علامہ مبشر حسین اور علامہ عامر محمود سمیت دیگر علماء کرام شامل تھے۔اسی طرح سیاسی و سماجی شخصیات میں مسلم لیگ (ن) کوٹلی ستیاں کے ترجمان ڈاکٹر فیاض راجہ، صدر پاکستان میڈیا جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PMJA) تحصیل کوٹلی ستیاں نوید ستی، سابق وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی ڈاکٹر زر اقبال ستی، سابق کونسلر کرل طارق محمود ستی ، ڈاکٹر زرین ستی ، اور دیگر معززین نے شرکت کی۔اس موقع پر پیر طریقت رہبر شریعت پیر نظیر قاسم نے اپنے خصوصی خطاب میں والدین کے عظیم مقام و مرتبے، ان کے حقوق، اطاعت، فرمانبرداری اور خدمت کے حوالے سے تفصیلی اور ایمان افروز گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ والدین اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد کے لیے عظیم نعمت ہیں اور ان کی خدمت، عزت و احترام اور فرمانبرداری ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ والدین کی دعائیں انسان کی زندگی میں کامیابی اور برکت کا ذریعہ بنتی ہیں، اس لیے ہمیں ان کی زندگی میں ان کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کرنا چاہیے۔انہوں نے مرحومہ کے اعلیٰ اخلاق، دینی وابستگی اور درویش صفت شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ ایک نہایت نیک، باکردار اور درویش صفت خاتون تھیں۔ ایسی مائیں خوش نصیب لوگوں کے مقدر میں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحومہ ان کی خالہ تھیں اور ان کی شخصیت میں اعلیٰ انسانی اوصاف، دینی شعور، تقویٰ اور عظمت کی بے شمار خوبیاں موجود تھیں۔ وہ دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عملی طور پر زندگی گزارنے والی ایک مثالی خاتون تھیں۔پیر نظیر قاسم نے مزید کہا کہ مرحومہ کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک بڑا صدمہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کی شخصیت، دینی تربیت، اخلاق اور محبت و شفقت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی کمی ایک ایسا خلا ہے جسے مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔محفل کے اختتام پر علامہ قاری عتیق الرحمن عباسی نے شکیل ستی برادران، اہل علاقہ اور منتظمین کی جانب سے پیر انور جنید شاہ گھمکول شریف، پیر طریقت رہبر شریعت پیر نظیر قاسم، تمام علماء کرام، مشائخ عظام، سیاسی و سماجی شخصیات اور محفل میں شرکت کرنے والے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔آخر میں مرحومہ کے ایصال ثواب، بلندی درجات، مغفرت، اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت اور ملک و قوم کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ یہ بابرکت روحانی اجتماع اہل علاقہ کے لیے محبت، عقیدت، دینی وابستگی اور باہمی اخوت کا خوبصورت مظہر ثابت ہوا۔

؎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں