امریکی مڈٹرم الیکشن: ٹرمپ کی جماعت کو شکست، ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں فاتح

مڈٹرم الیکشن

واشنگٹن(کوہسارنیوز)امریکا کے مڈٹرم الیکشن کے نتائج میں ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی اور ریپبلکنز امیدواروں کو مختلف نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکا میں مڈٹرم الیکشن کے نتائج کا آنے کا سلسلہ جاری ہے اور ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اورسینیٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔
نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 231 اور ریپبلکن کے 139 ارکان کو برتری حاصل ہے، 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار تھی جو ڈیموکریٹس نے حاصل کرلی ۔
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 20 نشستوں پر برتری کے بعد تعداد 54 ہوگئی جب کہ ریپبلکنز کو 13 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی جس کے بعد سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 44 ہوگئی۔امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کیلئے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہیں۔
مڈٹرم الیکشن میں 3 امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیاAnil ، Luke اور Jessica نے ناسا کے خلائی اسٹیشن سے الیکٹرونک ووٹ ہیوسٹن خلائی مرکز کو بھیجا، کہا ووٹ کا حق خلا سے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا جبکہ دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی۔
ٹرمپ کا ہر امریکی کو 5 ہزار ڈالر دینے کا اعلان بھی ریپبلکنز کو کامیابی نہ دلواسکا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی جیت کی صورت میں ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کا چیک دینے اعلان بھی ریپبلکنز کو جیت نہ دلواسکا۔
صدر ٹرمپ نے ستمبر میں اعلان کی تھا کہ ریپبلکن پارٹی کی کامیابی پر امریکا کے ہربالغ شہری کو 5 ہزار ڈالر انعام دیں گے۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ 5 ہزار ڈالر اس شرط پر دیے جائیں گے کہ وہ امریکا کے اندر ہی خرچ کیے جائیں۔
امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں
امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں ہیں، کہیں سیاسی حریفوں سے براہِ راست مقابلہ تو کہیں کئی جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیں۔
مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں جہاں ان کا مقابلہ 4 امیدواروں سے ہے،کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ بھی اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔
دوسری جانب عام انتخابات میں رشیدہ طلیب کے مدمقابل ری پبلکن جیمز ہوپر سمیت 3 دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ امریکی سیاست میں مسلم امیدواروں کی بڑھتی موجودگی کے ساتھ یہ انتخابی مقابلے بھی خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں