کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز،نوید ستی سے) ڈپٹی کمشنر مری کی کوٹلی ستیاں میں کھلی کچہری، عوامی مسائل سنے،بازار کا دورہ بھی کیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کوٹلی ستیاں میں کھلی کچہری، ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی نے عوامی مسائل سنے، زمینوں پر قبضوں، ٹرانسپورٹ کرایوں، سڑکوں کی تعمیر میں تاخیر اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایات سامنے آگئیںکھلی کچہری میں شہریوں نے اپنے مسائل، شکایات اور مطالبات ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے۔ کھلی کچہری میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، عوامی و سماجی شخصیات، منتخب نمائندوں اور شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر زمینوں پر مبینہ قبضوں، لکڑی اور ایندھن کی عدم دستیابی، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرایوں، سڑکوں کی تعمیر میں تاخیر، واپڈا سے متعلق مسائل اور دیگر عوامی مشکلات کے حوالے سے درخواستیں پیش کی گئیں کھلی کچہری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کامران صغیر، اسسٹنٹ کمشنر کوٹلی ستیاں تیمور عادل، ایس ڈی پی او ملک ندیم اعوان، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی صاحبزادہ عمران اختر، سی ای او ہیلتھ، ایم ایس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کوٹلی ستیاں سلمان خان، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی ستی، تحصیلدار کوٹلی ستیاں سدرہ اعجاز قاضی، انچارج اراضی ریکارڈ سینٹر فہیم ستی، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کوٹلی ستیاں جلیل اصغر ستی، مرکزی انجمن تاجران کوٹلی ستیاں کے عہدیداران، سمیت صحافیوں ، محکمہ پولیس، ریونیو، جنگلات، پی ڈی ایم اے، ہائی ویز اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موجود تھے۔ اس موقع پر ممبر امن کمیٹی ضلع مری و صدر جماعت اہلِ سنت تحصیل کوٹلی ستیاں علامہ حافظ عبد الستار الخیری نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیےکھلی کچہری میں شہریوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ درخواستیں جمع کروائیں۔ موصول ہونے والی شکایات میں سب سے زیادہ درخواستیں زمینوں پر قبضوں اور جائیداد سے متعلق تنازعات کے حوالے سے تھیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ زمینوں پر ناجائزقبضوں کی شکایات کا فوری نوٹس لے کر قانونی کارروائی کی جائے اور حق داروں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر لکڑی اور ایندھن کی عدم دستیابی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے، سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں میں تاخیر اور واپڈا سے متعلق مسائل بھی ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھے گئےشہریوں نے اس امر پر زور دیا کہ کوٹلی ستیاں جیسے پہاڑی علاقے میں عوام کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کی باقاعدہ موجودگی ضروری ہے، تاکہ لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بار بار مری یا دیگر دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیںڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی نے شہریوں سے براہِ راست ان کے مسائل سنے اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور موصول ہونے والی درخواستوں پر قانون کے مطابق ضروری کارروائی کرتے ہوئے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے طویل وقفے کے بعد کھلی کچہری کے انعقاد پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی افسران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور دیگر ذمہ داران کو ہدایت کی کہ کوٹلی ستیاں کے عوامی مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ شیڈول مرتب کیا جائے۔ انہوں نے اس حوالے سے ہدایات دیں کہ ضلعی افسران ہفتے میں ایک دن کوٹلی ستیاں میں موجود رہ کر شہریوں کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کریں، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر آفس کوٹلی ستیاں میں بھی ہفتہ وار یا پندرہ روزہ بنیادوں پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کا نظام وضع کیا جائے، تاکہ عوام کو مقامی سطح پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ کھلی کچہری میں غیر حاضر رہنے والے متعلقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل سننا اور ان کا بروقت حل متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں غفلت یا غیر ضروری تاخیر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔لائسنس برانچ، گرین بس سروس اور ریسکیو سہولتوں کے آغاز کی ہدایاتکھلی کچہری کے دوران شہریوں کی سفری مشکلات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے متعلق مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے کوٹلی ستیاں میں لائسنس برانچ کے قیام اور گرین بس سروس کے آغاز کے حوالے سے جلد اقدامات کرنے کی ہدایات دیں، تاکہ مقامی شہریوں کو سفری سہولتوں اور ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق امور کے لیے دوسرے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔انہوں نے ریسکیو سروس کی سہولت کو مرزا پور تک شروع کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر مکمل سروس کی فراہمی ممکن نہ ہو تو موٹر سائیکل ریسکیو سروس سمیت دستیاب وسائل کے ذریعے شہریوں کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے، تاکہ پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں حادثات یا دیگر ہنگامی حالات کے دوران بروقت مدد پہنچائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر مری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوٹلی ستیاں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور علاقے کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے بھی شہریوں کے پیغامات اور شکایات کا جواب دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ عوامی مسائل کو متعلقہ محکموں تک پہنچا کر ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر کوٹلی ستیاں بازار کی صورتِ حال اور ترقیاتی ضروریات کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سی ایم کو یہ تصویر بھیجی تو بازار کی تصویر دیکھ کر انہوں نے استفسار کیا کہ آیا یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی گئی تصویر ہے یا حقیقی منظر کی عکاسی کرتی ہے۔ جس پر متعلقہ عملے سے تصویر کی تصدیق کے بعد انہوں نے اس معاملے پر اطمینان کا اظہار کیا اہلِ کوٹلی ستیاں پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقے کی قدرتی خوب صورتی، ماحول اور پہاڑی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے تعمیرات میں قانونی تقاضوں اور منظور شدہ نقشوں کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی تعمیر متعلقہ قوانین اور منظور شدہ نقشوں کے مطابق ہونی چاہیے، کیونکہ غیر قانونی تعمیرات مستقبل میں شہری مسائل، ماحولیاتی نقصان اور انتظامی مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔انہوں نے مری میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کوٹلی ستیاں کے شہری بھی تعمیراتی قوانین کی پابندی کریں اور علاقے کو بے ہنگم تعمیرات سے محفوظ رکھنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوٹلی ستیاں ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی عمل منصوبہ بندی، قانونی تقاضوں اور علاقے کی قدرتی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے۔کھلی کچہری کے موقع پر حافظ عبد الستار الخیری، ڈاکٹر حمید لحق ستی ، صحافی دولت علی چشتی ، صدر میونسپل کمیٹی مسلم لیگ ن آفتاب احمدستی، جاوید اخترانقلابی،سابق ناظم ملوٹ ستیاں،حاجی اظہر اقبال ستی، سابق چیئرمین یونین کونسل صادق آباد سمیت دیگر عوامی و سماجی شخصیات نے ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی کا کھلی کچہری کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس نوعیت کی کھلی کچہریوں کا انعقاد صرف ایک وقتی سرگرمی تک محدود نہ رہے بلکہ باقاعدہ شیڈول کے تحت جاری رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضلعی انتظامیہ کے افسران ہفتہ وار یا پندرہ روزہ بنیادوں پر کوٹلی ستیاں میں بیٹھ کر شہریوں کے مسائل سنیں تو عوام کو ریلیف ملنے کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں کے بارے میں شکایات کے ازالے میں بھی مدد ملے گی۔شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی درخواستوں پر عملی پیش رفت ہوگی اور زمینوں کے تنازعات، ٹرانسپورٹ کرایوں، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، بجلی، ایندھن اور دیگر بنیادی سہولتوں سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔کھلی کچہری کا بنیادی مقصد شہریوں کو ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا، عوامی شکایات سننا اور ان کے بروقت ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا تھا۔ اب شہریوں کی نظریں متعلقہ محکموں کی آئندہ کارروائی اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل درآمد پر مرکوز ہیں، تاکہ کھلی کچہری میں سامنے آنے والے مسائل محض یقین دہانیوں تک محدود رہنے کے بجائے عملی طور پر حل ہو سکیں
ڈپٹی کمشنر مری کی کوٹلی ستیاں میں کھلی کچہری، عوامی مسائل سنے،بازار کا دورہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







