گورنرراج،لانگ مارچ ،حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ،کل پھر ہونگے

مذاکرات

اسلام آباد(کوہسارنیوز) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں مذاکرات کا آج کا دور ختم ہو گیا، کل دوبارہ دو بجے مذاکرات ہوں گے، حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دیئے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر، شیری رحمان اورحکومت کی جانب سے محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، طلال چودھری، امیر مقام اور طارق فضل چوہدری مذاکرات میں شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر محسن نقوی نے مذاکراتی وفود کو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کردیا، بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی بات کی گئی، بانی کی بہنوں اورگرفتار ارکانِ اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
آج کے لیے مذاکرات کا دور ختم ہونے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اچھے ماحول میں مذاکرات ہوئے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کل بھی جاری رہیں گے، ایک دوسرے کے موقف سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات سے حکومت کو اگاہ کر دیا ہے، یہ مذاکرات ماضی سے مختلف رہے، ہم ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں اب تک ہونے والے مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم کو اپوزیشن کے مطالبات سے بھی آگاہ کیا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور مکمل ہو گیا، حکومتی اراکین کمیٹی روم میں موجود ہیں جبکہ اپوزیشن اراکین مشاورت کےلیے سپیکر چیمبر میں چلے گئے۔
حکومت نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل انہوں نےمیڈیا کو بتایا تھا کہ آج وہ پورے خلوص سے بغیر کوئی پیشگی شرط رکھے حکومت سے مذاکرات کرنے جارہے ہیں، جس دوران حکومت کو سننے کے بعد اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے اور اگر انصاف ہمارے لیے چھٹی پر نہیں ہے تو ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ بات چیت میں ہمیں کبھی جھجک ہوئی نہ انا آڑے آئی،ن لیگ اورپیپلزپارٹی نے ہمیشہ مسائل مذاکرات سےحل کیے ،امید ہے اپوزیشن بات چیت کا موقع نہیں گنوائے گی۔
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے معاملات عدالتوں کے ذریعے ہی حل ہونگے۔سیاسی معاملات ٹیبل پربیٹھ کرحل ہوسکتے ہیں ،بیٹھ کرجوبھی بات کرنا چاہیں وہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی اصولوں اورقانون کے مطابق جواب دیں گے ، یہ طریقہ نہیں کہ وزیراعظم کوخط لکھ سکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے،اس قسم کی سوچ سیاسی رواداری کا نقصان کرتی ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مذاکرات کی دعوت وزیراعظم نے خود قائد حزب اختلاف کو دی،حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آج آرہی ہے تو اچھی امید کے ساتھ بیٹھیں گے،بات چیت سے مسائل کا حل ملک اور سیاسی صورتحال کے لیے بہتر ہے،مذاکرات میں کئی موضوعات زیر بحث آئیں گے،ممکنہ حل حکومت کے پاس ہوا تو پیش کریں گے۔
طارق فضل چودھری نے مشورہ دیا کہ اپوزیشن کو سیاسی رویہ اختیار کرنا پڑے گا،اسلام آباد پر یلغار اور چڑھائی سے اجتناب کرنا ہوگا،خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کو قابو کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے، مارچ ابتدا میں 27 ستمبر کو ہونا تھا تاہم پی ٹی آئی نے اسے مؤخر کرکے 4 اکتوبر 2026 کو کرنے کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے دیگر سیاسی و آئینی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے مارچ کو پرامن رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کی جانب مارچ کے انتظامات تشویش کا باعث ہیں، حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی بڑھانے اور اہم راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔
لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا ذکر بھی سامنے آیا، حکومتی نمائندوں نے کہا ہے کہ آئینی طریقہ کار کے تحت اس آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس امکان کی مخالفت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں