کراچی،لاہور(کوہسار نیوز) جماعت اسلامی کے تحت پیٹرولیم لیوی کم نہ کرنے پر آج ملک بھر میں چار مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے۔جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز کے باہر جبکہ لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاوس کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق کراچی میں دھرنے کا 15 روز کا شیڈول بھی تیار کر لیا گیا، دھرنوں کا آغاز سہ پہر تین بجے ہوگا۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تاریخی مارچ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور پہنچیں گے اور دھرنا دیں گے۔ پنجاب کے نوجوانوں سے کہتا ہوں نکلو اور اپنے حق کے لیے ڈٹ جاؤ، ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں، ہم عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں، بھتہ لیوی ختم کرو، پٹرول کی قیمت کم کرو۔انہوں نے کہا کہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز پر بھی عوام کا سمندر اُمڈے گا۔ پورا پاکستان ان دھرنوں کی پشت پر کھڑا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے گزشتہ ہفتے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں مسلسل اضافے کے خلاف ملک بھر میں 500 سے زائد مقامات پر احتجاج کیا تھا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ لاہور میں مرکزی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم لیوی اور حکومتی بدعنوانیوں کے خلاف آج چاروں صوبوں میں بیک وقت احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے، لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس جبکہ باقی صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے کا انعقاد کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے طے شدہ ہدف سے بھی زائد لیوی وصول کی ہے جو کہ عوام سے بھتہ وصول کرنے اور ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، 8 ہزار ارب روپے زائد وصولی کے باوجود ملکی ریفائنریز کو بہتر نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا ملک میں سالانہ 17 ارب ڈالر کی مراعات مخصوص طبقے کو دی جاتی ہیں، غریب پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے جبکہ اشرافیہ سے کوئی پرسش نہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اخراجات کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ کی گاڑی اور وزیراعلیٰ کے لیے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا۔ تمام سرکاری افسران سے بڑی گاڑیاں واپس لے کر انہیں 1300 سی سی گاڑیوں پر منتقل کیا جائے۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز مافیا کو بجلی نہ بنانے پر بھی بھاری کیپسیٹی پیمنٹس دی جاتی ہیں اور ان سے ٹیکس بھی وصول نہیں کیا جاتا۔ملک میں وافر بجلی موجود ہونے کے باوجود پنجاب اور خیبر پختونخوا میں شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے، جماعت اسلامی کی تحریک کی بدولت ہی عوام کو بجلی کے بلوں میں کچھ ریلیف ملا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تعلیم طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے جبکہ مفت اور معیاری تعلیم و علاج کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ شہروں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار نہیں، لوگ مجبوری میں جان ہتھیلی پر رکھ کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ عوام موجودہ حکمرانوں اور نظام سے شدید مایوس ہو چکے ہیں۔
آج چاروں صوبوں میں دھرنے،حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائیگی، حافظ نعیم
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







