پیپلز پارٹی کی تنظیمی اصلاحات نے پارٹی کو مضبوط اور مربوط سیاسی قوت بنادیا:جبار ستی

جبار ستی

کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز) پاکستان پیپلز پارٹی ضلع مری کے صدر اور سابق ناظم کوٹلی ستیاں عبدالجبار ستی نے کہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد طویل جلاوطنی کے اختتام پر 1986ء میں وطن واپسی کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر وسیع پیمانے پر تنظیمی اصلاحات متعارف کرائیں، جن کے نتیجے میں پارٹی ایک منظم، مربوط اور ملک گیر سیاسی جماعت کے طور پر مزید مستحکم ہوئی۔انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وضع کردہ سیاسی فلسفے، تنظیمی ڈھانچے اور منشور کی روشنی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے استحکام، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں سیاسی کردار ادا کیا، جسے ملکی سیاسی تاریخ میں اہم حیثیت حاصل ہےعبدالجبار ستی کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو کی جانب سے پارٹی کو نچلی سطح سے مرکز تک ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچے میں استوار کرنے کی حکمتِ عملی نے کارکنوں، ورکرز، سپورٹرز اور ووٹرز کو ایک مربوط سیاسی قوت کے طور پر جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ قیادت کی جانب سے دوبارہ تنظیمی اصلاحات اور پارٹی کے بنیادی تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر توجہ اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو مزید فعال اور منظم بنانے کے لیے کارکنوں کو تنظیمی سطح پر متحرک کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اپنی تنظیم کو وارڈ کی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک منظم کرنے کے لیے آئینی و تنظیمی طریقہ کار وضع کیا، جس کے تحت پارٹی امور چلائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مضبوط تنظیم کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے عوام سے رابطے اور جمہوری عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔عبدالجبار ستی نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر بھی توجہ دی گئی۔ 1988ء میں پاکستان کو بڑے مالیاتی خسارے، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ، تجارتی عدم توازن اور محدود زرمبادلہ ذخائر جیسے معاشی چیلنجز کا سامنا تھا۔ ورلڈ بینک کے ریکارڈ کے مطابق 1988ء کے بعد حکومت نے مالیاتی، تجارتی اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات پر مشتمل ایک درمیانی مدت کے معاشی ایڈجسٹمنٹ پروگرام پر عملدرآمد شروع کیا، جس میں مالیاتی خسارے میں کمی، ٹیکس بیس وسیع کرنے، سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنے، تجارتی پالیسی میں اصلاحات اور مالیاتی شعبے میں بہتری جیسے اقدامات شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ اس دور کی معاشی پالیسیوں میں تجارت و صنعت کے فروغ، بہتر مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں بہتری اور معیشت کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات شامل تھے۔ ورلڈ بینک کے تاریخی جائزوں کے مطابق 1988ء تا 1991ء کے اصلاحاتی پروگرام میں مالیاتی خسارہ کم کرنے، ٹیکس اور محصولات میں بہتری، تجارتی پالیسی میں اصلاحات اور مالیاتی شعبے کو زیادہ مؤثر بنانے کے اہداف شامل تھے۔عبدالجبار ستی نے مزید کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد اور جمہوری اصولوں سے وابستگی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم باب ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کو چاہیے کہ وہ پارٹی کے بنیادی منشور، تنظیمی اصولوں، جمہوری اقدار اور عوامی رابطے کی سیاست کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ نچلی سطح تک فعال اور مؤثر رہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں، جمہوری جدوجہد اور عوامی حقوق کی سیاست سے عبارت ہے، اور پارٹی کی تنظیمی مضبوطی ہی اسے کارکنوں اور عوام کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں جوڑنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں