کوٹلی ستیاں میں ایچ بی ایل نہ ہونے سے شہریوں، پنشنرز اور طلبہ و طالبات کو مشکلات کا سامنا

ایچ بی ایل

کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز،نوید ستی سے)کوٹلی ستیاں میں ایچ بی ایل نہ ہونے سے شہریوں، پنشنرز اور طلبہ و طالبات کو مشکلات کا سامنا،نادرہ سیکسیشن سرٹیفکیٹ کے حصول، تعلیمی فیسوں اور دیگر بینکاری امور کے لیے عوام کو راولپنڈی، اسلام آباد اور دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، ایچ بی ایل انتظامیہ سے فوری برانچ قائم کرنے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق کوٹلی ستیاں میں حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) کی کوئی برانچ موجود نہ ہونے کے باعث شہریوں، پنشنرز اور طلبہ و طالبات کو مختلف بینکاری امور کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بالخصوص نادرا کے سیکسیشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے متعلقہ بینکاری سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث عوام کو طویل سفر کی صعوبت برداشت کرنا پڑتی ہے۔شہریوں کے مطابق تحصیل کوٹلی ستیاں میں ایچ بی ایل کی برانچ نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کی فیسوں، داخلوں اور دیگر مالی معاملات کے لیے بھی طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو راولپنڈی، اسلام آباد یا تحصیل سے باہر قائم ایچ بی ایل کی برانچز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح متعدد پنشنرز بھی ایچ بی ایل سے متعلق بینکاری امور کی انجام دہی کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں پر مشتمل تحصیل کوٹلی ستیاں کے شہریوں کے لیے یہ سفر نہ صرف وقت طلب بلکہ اضافی سفری اخراجات کا باعث بھی بنتا ہے۔ بالخصوص بزرگ پنشنرز، طلبہ و طالبات اور خواتین کے لیے یہ صورتحال مزید دشواری کا سبب بنتی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کوٹلی ستیاں میں دیگر متعدد بینکوں کی برانچز موجود ہیں، تاہم ایچ بی ایل جیسی بڑے بینکاری ادارے کی برانچ کا نہ ہونا شہریوں کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ بعض معاملات میں لوگوں کو راولپنڈی، اسلام آباد یا تحصیل کے دو بارڈر ایریا میں قائم ایچ بی ایل برانچز تک پہنچنے کے لیے متعدد گاڑیاں تبدیل کرنا پڑتی ہیں، جس سے سفر مزید مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔شہریوں، پنشنرز، طلبہ و طالبات اور عوامی حلقوں نے حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) کی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کوٹلی ستیاں کی جغرافیائی صورتحال، بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تحصیل کوٹلی ستیاں میں ایچ بی ایل کی باقاعدہ برانچ قائم کی جائے تاکہ عوام کو مقامی سطح پر بینکاری سہولیات میسر آ سکیں اور انہیں دور دراز علاقوں کے سفر سے نجات مل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں