پشاور (کوہسار نیوز) وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ یہ ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ہے، بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے، وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بہت آپشنز ہیں، یہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے بلکہ پوری کمانڈ تباہ کردی ہے، مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آرہا ہے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اختیارات اپنی جیب میں اور اپنی سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 20 سال سے دہشتگردی کی جنگ لڑ رہا ہے مگر وہاں سی ٹی ڈی کرائے کی عمارتوں میں ہے، آپ کہتے ہیں صوبائی وزیر اغوا ہو گیا ہے، اگر آپ اتنے بے بس ہیں تو کیوں کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں؟
اسلام آباد میں راستوں کی بندش سے متعلق طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد آنے والے تمام 125 راستے کھلے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کابینہ نے نئے پولیس ایکٹ کی منظوری دی تھی جس کے تحت آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت مطمئن نہ ہو تو اس کے تبادلے کے لیے وفاق سے مزید نام مانگ سکتی ہے جب کہ پوسٹنگز اور تبادلوں کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔







