مری کے جنگلات کو ترقیاتی منصوبوں میں نظرانداز نہ کیا جائے، عامر ستی

عامر ستی

کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز،نوید ستی سے) مری کے جنگلات کو ترقیاتی منصوبوں میں نظرانداز نہ کیا جائے، عامر ستی ، 25 آر ایف سمیت 35، 36، 26، 27 آر ایف کے جنگلات کو بھی منصوبوں میں شامل کیا جائے، پتریاٹہ ٹاپ سے سیری سانٹھ تک پرانے ٹریک کو انسپکشن پاتھ کے طور پر بحال کرنے کی اپیل،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء و وائس چیئرمین پیپلز پارٹی تحصیل کوٹلی ستیاں ممبر کوہسار پوٹھوار عامر ستی نے ڈی ایف او پنجاب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ، مری فاریسٹ ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات کے تحفظ، بہتری اور سیاحتی و ماحولیاتی ترقی کے لیے جاری مختلف مجوزہ منصوبوں میں مری اور کوٹلی ستیاں کے متعلقہ جنگلات کو نظرانداز نہ کیا جائے، بالخصوص 25 آر ایف سمیت 35 آر ایف، 36 آر ایف، 26 آر ایف اور 27 آر ایف کو بھی ترقیاتی منصوبوں میں مناسب نمائندگی دی جائے۔اپنے پیغام اور درخواست میں عامر ستی نے کہا کہ ان دنوں سوشل میڈیا پر چک ڈیم، برائیڈل پاتھ اور انسپکشن پاتھ سمیت مختلف منصوبوں کے حوالے سے معلومات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متعلقہ جنگلات کو ان منصوبوں میں شامل نہ کیے جانے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں پانی کے ٹینکوں کی تعمیر کے دوران بھی بعض جنگلات کو نظرانداز کیے جانے کی شکایات سامنے آئی تھیں، جبکہ بالخصوص 25 آر ایف کو مسلسل سائیڈ لائن کیے جانے کا خدشہ ہے۔عامر ستی کا کہنا تھا کہ 25 آر ایف کے جنگل کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ جنگلات کے افسران اور متعلقہ عملے نے طویل عرصے تک محنت کی ہے۔ جنگل کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے جنگل کے رکھوالوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ ماضی میں ڈی ایف او اور ایس ڈی ایف او سطح کے افسران سے اس حوالے سے رابطے اور درخواستیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان کے بقول 25 آر ایف اور 24 آر ایف کے جنگلات مری کے خوبصورت اور بہتر انداز میں تیار ہونے والے جنگلات میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی محنت اور افادیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پتریاٹہ ٹاپ سے سیری سانٹھ تک، 26 آر ایف سے 22 آر ایف کی سمت موجود پرانے ٹریک کو بحال کرکے انسپکشن پاتھ کے طور پر ترقی دی جائے، تاکہ جنگلات کی نگرانی، حفاظت اور دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ علاقے کی قدرتی خوبصورتی سے بھی بہتر انداز میں استفادہ کیا جا سکے۔عامر ستی نے ڈی ایف او مری فاریسٹ ڈویژن سے اپیل کی کہ مجوزہ منصوبوں کی منصوبہ بندی اور تقسیم کے دوران تمام متعلقہ جنگلات کی اہمیت، سابقہ محنت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ 25 آر ایف سمیت دیگر متعلقہ جنگلات کو ترقیاتی منصوبوں سے محروم نہیں رکھا جائے گا اور انسپکشن پاتھ کے منصوبے میں بھی ان کے مطالبے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔2025/میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اگلے بجٹ تک صبر کریں پھر اپکے یہ سارے مسلے کا حل نکل جاۓ گا مگر تاحال کچھ بھی نہ ہوسکا انہوں نے محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جنگلات کے تحفظ، ان کی بہتری اور علاقے کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے شفاف اور متوازن حکمت عملی اختیار کی جائے، تاکہ کسی بھی علاقے یا جنگل کو ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے محروم ہونے کا احساس نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں