انسان کی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی محبت، شفقت، رہنمائی اور تربیت کے نقوش وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ عظیم ہستیاں ہوتی ہیں جو محض کتابی علم نہیں سکھاتیں بلکہ انسان کے کردار کو سنوارتی، اس کے دل میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کرتی اور اسے زندگی کے درست راستوں پر چلنے کا شعور عطا کرتی ہیں۔ ایسی ہی قابلِ احترام شخصیات میں میرے استادِ محترم پیر طریقت رہبر شریعت استاذ العلماء حضرت مولانا پیرمشتاق احمد جلالی مہتمم جامعہ جلالیہ رضویہ اور جامعہ عائشہ جلالیہ رضویہ للبنات راولپنڈی، نمایاں مقام رکھتے ہیں، جن کی دینی، تعلیمی اور تربیتی خدمات میرے لیے ہمیشہ باعثِ فخر اور سرمایۂ افتخار رہی ہیں۔استادِ محترم کی شخصیت میرے لیے محض ایک معلم کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ ایک ایسے مذہبی ، رہنما اور محسن ہیں جنہوں نے میری زندگی کے ابتدائی تعلیمی سفر میں علم و عمل کی بنیاد مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ میرے دل میں محبتِ رسول ﷺ اور نعت خوانی کا ذوق بھی پیدا کیا۔ آج جب میں اپنی زندگی کے سفر پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ استاد کی مخلصانہ رہنمائی اور والدین کی دعائیں انسان کی شخصیت کی تعمیر میں کس قدر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سن 1996ء میری زندگی کا ایک یادگار سال ہے، جب میں نے حفظِ قرآنِ مجید کا آغاز کیا۔ یہ وہ مبارک سفر تھا جس میں قرآنِ کریم کے الفاظ کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم اور روحانی تربیت کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، والدین کی دعاؤں اور استادِ محترم کی محنت و توجہ سے میں نے تقریباً ایک سال کے عرصے میں حفظ مکمل کر لیا۔قرآنِ مجید حفظ کرنا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور سعادت ہے، لیکن اس سعادت کے حصول میں استاد کی محنت، شفقت، مستقل مزاجی اور شاگرد کی تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ استادِ محترم نے جس توجہ اور خلوص کے ساتھ تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیا، اس کے اثرات آج بھی میری زندگی میں نمایاں ہیں۔دورانِ تعلیم انہوں نے نہ صرف قرآنِ کریم کی تعلیم کے ذریعے میرے دل کو نورِ قرآن سے منور کیا بلکہ میری شخصیت کی تعمیر، اخلاقی تربیت اور دینی شعور کی آبیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تعلیمات نے یہ احساس اجاگر کیا کہ علم کا اصل مقصد محض امتحان میں کامیابی یا سند حاصل کرنا نہیں، بلکہ علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا، اچھے اخلاق اپنانا اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ استادِ محترم پیر طریقت رہبر شریعت استاذ العلماء حضرت مولانا پیر مشتاق احمد جلالی مہتمم جامعہ جلالیہ رضویہ اور جامعہ عائشہ جلالیہ رضویہ للبنات راولپنڈی کی دینی و تعلیمی خدمات کا دائرہ کسی ایک ادارے یا علاقے تک محدود نہیں، بلکہ ان کے زیرِ اہتمام ملک کے مختلف شہروں میں دینی مدارس قائم ہیں، جہاں طالبات کو دینی تعلیم کے حصول کے مواقع میسر آتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیم، اسلامی اقدار کی ترویج اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔ایک دینی ادارہ قائم کرنا اور اسے مستقل بنیادوں پر چلانا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے خلوصِ نیت، محنت، مستقل مزاجی، قربانی اور خدمتِ دین کا جذبہ درکار ہوتا ہے۔ دینی مدارس معاشرے میں علم و شعور کی روشنی پھیلانے، اسلامی تعلیمات سے آگاہی پیدا کرنے اور بچیوں کی دینی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں استادِ محترم کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ان کی نگرانی اور رہنمائی میں تعلیم حاصل کرنے والی ہزاروں طالبات آج مختلف مدارس میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ امر ان کے تعلیمی مشن کی وسعت اور اس کے دور رس اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ایک معلم اپنے شاگردوں کو علم سے آراستہ کرتا ہے اور وہ شاگرد آگے چل کر دوسروں تک علم پہنچاتے ہیں تو درحقیقت علم و تربیت کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے جس کے ثمرات نسل در نسل سامنے آتے رہتے ہیں۔میرے نزدیک ایک استاد کی حقیقی کامیابی یہی ہے کہ اس کے شاگرد اس کے سکھائے ہوئے علم، اخلاق اور کردار کی روشنی دوسروں تک پہنچائیں۔ اس اعتبار سے استادِ محترم کی تعلیمی خدمات ایک فرد کی تربیت تک محدود نہیں، بلکہ ان کے ذریعے متعدد طالبات کی تعلیم و تربیت اور ان کے مستقبل کی تشکیل کا عمل جاری ہے۔استادِ محترم کی تربیت کا ایک خوب صورت اور یادگار پہلو یہ بھی ہے کہ دورانِ طالب علمی انہوں نے مجھے حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ثنا خوانی سکھائی۔ نعت خوانی محض خوش الحانی سے اشعار پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ محبت، عقیدت، ادب اور قلبی وابستگی کا اظہار ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نعت کے الفاظ کی حرمت، ان کے مفہوم اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کے آداب کو پیشِ نظر رکھا جائے۔استادِ محترم نے میرے اندر نعت خوانی کا جو شوق پیدا کیا، وہ آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔ ان کی رہنمائی نے مجھے اس خوب صورت دینی و روحانی روایت سے وابستہ کیا اور یہ احساس دیا کہ نعت خوانی کو محض ایک فن نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار اور اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔الحمدللہ! آج بھی مجھے اپنے علاقے میں نعت خوانی کا سلسلہ جاری رکھنے کی سعادت حاصل ہے۔ جب بھی حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں نعت کا نذرانہ پیش کرنے کا موقع ملتا ہے تو مجھے اپنے استادِ محترم کی وہ شفقت، رہنمائی اور تعلیم یاد آتی ہے جس نے اس سفر کی بنیاد رکھی۔ میرے لیے یہ محض ایک مشغلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی نسبت ہے جس سے میری دلی وابستگی قائم ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ اگر کسی طالب علم کو علم کے ساتھ کوئی اچھا ذوق، مثبت عادت اور نیک مقصد بھی عطا کر دیا جائے تو یہ تربیت زندگی بھر اس کے ساتھ رہتی ہے۔ میرے استادِ محترم نے مجھے دینی تعلیم کے ساتھ نعت خوانی کی طرف راغب کر کے میری زندگی میں ایک ایسا باب شامل کیا جو آج بھی میرے لیے روحانی سکون اور خوشی کا باعث ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج مجھے ایک بڑے سرکاری تعلیمی ادارے میں اپنی خدمات انجام دینے کا موقع حاصل ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ میں علاقے میں نعت خوانی کے سلسلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔ میں ان دونوں پہلوؤں کو اپنی زندگی کی اہم ذمہ داریاں سمجھتی ہوں۔ایک طرف سرکاری تعلیمی ادارے میں خدمات انجام دینا انسان کو نظم و ضبط، ذمہ داری اور معاشرتی خدمت کا احساس دلاتا ہے، تو دوسری طرف دینی تعلیم اور نعت خوانی سے وابستگی روحانی تسکین اور اخلاقی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ میرے لیے ان دونوں شعبوں سے وابستہ رہنا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔میں اپنی اس کامیابی کو کبھی صرف اپنی محنت کا نتیجہ قرار نہیں دیتی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل، والدین کی دعائیں اور استادِ محترم کی تعلیم و تربیت شامل ہیں۔ والدین انسان کے لیے دعا اور محبت کا مضبوط سہارا ہوتے ہیں، جبکہ استاد اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے، اس کی سوچ کو درست سمت دینے اور زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اگر بچپن میں استادِ محترم کی رہنمائی میسر نہ آتی، اگر والدین کی دعاؤں کا سایہ نہ ہوتا اور اگر اللہ تعالیٰ کا کرم شاملِ حال نہ رہتا تو شاید زندگی کا سفر اس انداز میں آگے نہ بڑھ پاتا۔ یہی احساس میرے دل میں اپنے محسنین کے لیے احترام، تشکر اور محبت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ہمارے معاشرے میں استاد کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ استاد وہ شخصیت ہے جو علم کے ذریعے انسان کی فکر کو وسعت دیتی، اس کے کردار کی تعمیر کرتی اور اسے اچھے برے میں فرق کرنے کا شعور دیتی ہے۔ بالخصوص دینی استاد کی ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ کتابی تعلیم کے ساتھ عقائد، عبادات، اخلاق اور روحانی تربیت کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ استادِ محترم پیر طریقت رہبر شریعت استاذ العلماء حضرت مولانا پیر مشتاق احمد جلالی مہتمم جامعہ جلالیہ رضویہ اور جامعہ عائشہ جلالیہ رضویہ للبنات راولپنڈی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے میرے دل میں یہ احساس مزید پختہ ہوتا ہے کہ شاگرد کی کامیابی میں اس کے استاد کی محنت کا ایک نمایاں حصہ ہوتا ہے۔ شاگرد خواہ زندگی میں کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، اپنے استاد کی شفقت اور احسان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔میرے نزدیک استاد کا احترام صرف زبانی اعتراف تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی سکھائی ہوئی اچھی باتوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں، اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کریں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جس سے استاد کی تربیت کے مثبت اثرات معاشرے تک پہنچتے ہیں۔آج جب میں اپنے تعلیمی سفر، سرکاری ادارے میں اپنی خدمات اور نعت خوانی سے وابستگی کو دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے استادِ محترم کی محنت اور رہنمائی کی اہمیت کا مزید احساس ہوتا ہے۔ ان کی تعلیمات نے مجھے یہ سبق دیا کہ کامیابی کا اصل حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب انسان اپنے علم، صلاحیتوں اور مقام کو دوسروں کے لیے فائدہ مند بنائے۔ استادِ محترم پیر طریقت رہبر شریعت استاذ العلماء حضرت مولانا پیر مشتاق احمد جلالی مہتمم جامعہ جلالیہ رضویہ اور جامعہ عائشہ جلالیہ رضویہ للبنات راولپنڈی جیسے اساتذہ کی خدمات اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ تعلیم و تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ ایک استاد اپنے شاگردوں کی زندگیوں میں علم کی روشنی منتقل کرتا ہے اور پھر یہی روشنی مختلف اداروں، خاندانوں اور معاشرتی حلقوں تک پہنچتی ہے۔ملک کے مختلف شہروں میں دینی مدارس کا قیام، طالبات کی تعلیم و تربیت اور ان میں دینی شعور پیدا کرنے کی کوششیں ایک ایسے مشن کی عکاس ہیں جس کے ثمرات طویل عرصے تک سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسے اداروں کی بہتری، تعلیمی معیار کے تسلسل اور طالبات کی مؤثر تربیت کے لیے اجتماعی تعاون اور اخلاص کی ضرورت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے استادِ محترم حضرت مولانا مشتاق احمد جلالی صاحب کی دینی، تعلیمی اور تربیتی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، انہیں صحت، عافیت، استقامت اور مزید خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے قائم کردہ اداروں کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب ہو اور وہاں سے علم حاصل کرنے والی طالبات دین و ملت کے لیے مفید ثابت ہوں۔میں اپنے والدین کے لیے بھی دعاگو ہوں جن کی دعاؤں اور محبت نے ہر مرحلے پر میرا حوصلہ بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور مجھے توفیق دے کہ میں اپنی عملی زندگی میں ان کی دعاؤں اور اپنے استاد کی تربیت کا حق ادا کر سکوں۔آخر میں یہی عرض کرنا چاہوں گی کہ میری زندگی میں قرآنِ کریم کی تعلیم، حضور نبی کریم ﷺ کی ثنا خوانی اور عملی زندگی میں خدمت کے سفر کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا فضل، والدین کی دعائیں اور استادِ محترم کی مخلصانہ رہنمائی شامل ہے۔ میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتی ہوں کہ مجھے استادِ محترم پیر طریقت رہبر شریعت استاذ العلماء حضرت مولانا پیر مشتاق احمد جلالی مہتمم جامعہ جلالیہ رضویہ اور جامعہ عائشہ جلالیہ رضویہ للبنات راولپنڈی جیسے شفیق اور قابلِ احترام استاد سے سیکھنے کا موقع ملا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر کرنے، علم کو عمل میں ڈھالنے اور دین و انسانیت کی خدمت کا جذبہ برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے
پیر مشتاق احمد جلالی کی دینی تعلیم کا روشن سفر ….تحریرحافظہ عزیز النساء دھنیال
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







