کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز ) حلقہ بندیوں کیلئےمقامی شہادت مدِنظر رکھنا ضروری،ایڈووکیٹ سعد جاوید ستی کے الیکشن کمیشن میں دلائل
سعد جاوید ستی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ , لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بنچ کی ہدایات کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے پیش ہوئے اور تحصیل کوٹلی ستیاں کی حالیہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے بھرپور قانونی دلائل دیےدورانِ سماعت تحصیل کوٹلی ستیاں کی تمام یونین کونسلز کے مجموعی مفاد میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حلقہ بندی محض آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ جغرافیائی وحدت، زمینی حقائق، قدرتی حدود، کھڈ/نالوں، باہمی راستوں، مواصلاتی سہولیات، مقامی آبادی کی سہولت اور سابقہ انتظامی حدود کو مدِنظر رکھتے ہوئے قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق ہونی چاہیے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ جہاں کسی علاقے کی تقسیم یا دوسری یونین کونسل سے الحاق کیا گیا ہے وہاں مقامی آبادی کے اعتراضات اور زمینی حقائق کی مؤثر جانچ اور شفاف Spot Verification ناگزیر ہےیہ بھی نشاندہی کی گئی کہ سابقہ Spot Verification کے حوالے سے مقامی افراد کے بیانات یا شہادت ریکارڈ پر موجود نہیں اور مقامی آبادی کے مطابق کسی نے ٹیم کو موقع پر نہیں دیکھا؛ لہٰذا ایسے معاملات میں آزادانہ موقع معائنہ اور مقامی شہادت کو مدِنظر رکھنا ضروری ہےامید ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان تحصیل کوٹلی ستیاں کی تمام یونین کونسلز کے عوام کے تحفظات، زمینی حقائق اور قانونی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے سابقہ یونین کونسلز کو بحال کرے گا۔ بصورتِ دیگر عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین و قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی ذرائع اور فورمز سے رجوع کیا جائے گا-
یو سی حلقہ بندیوں کیلئےمقامی شہادت ناگزیر،سعد جاوید ستی کے الیکشن کمیشن میں دلائل







