نزاکت عرف بوڑاکو گھر میں گھس کر مارا گیا،مقتول کی والدہ کا قرآن پر حلف

والدہ

کوٹلی ستیاں (کوہسارنیوز،نوید ستی سے) مبینہ پولیس مقابلے میں نزاکت عرف بوڑا کو گھر میں گھس کر مارا گیا،مقتول کی والدہ کا قرآن پر حلف
والدہ نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دیا کہ بیٹے کو گھر میں ہلاک کیا گیا جبکہ دوسرے بیٹے سے مبینہ طور پر کارروائی نہ کرنے کی تحریر بھی لکھوائی گئیٰگزشتہ روز مبینہ پولیس مقابلے کے دوران نزاکت محمود عرف بوڑا کی ہلاکت کے معاملے میں ایک نیا موڑ سامنے آگیا ہے۔ مقتول کی والدہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔نزاکت عرف بوڑا کی والدہ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ان کا بیٹا گھر میں موجود اور سو رہا تھا، جہاں پولیس اہلکار مبینہ طور پر داخل ہوئے اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بیٹے کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔والدہ کا مزید الزام ہے کہ واقعے کے بعد ان کے دوسرے بیٹے سے مبینہ طور پر زبردستی ایک تحریر لکھوائی گئی کہ وہ اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کریں گے، جس کے بعد انہیں نزاکت کی لاش حوالے کی گئی۔مقتول کی والدہ نے سوال اٹھایا کہ اگر ان کا بیٹا کسی مقدمے میں مطلوب یا قصوروار تھا تو اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جاتا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کیوں ہلاک کیا گیا، وہ انصاف کی طلب گار ہیں۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ نزاکت محمود عرف بوڑا کی ہلاکت کے واقعے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور میرٹ پر تحقیقات کرائی جائیں، ان کے بیان اور مبینہ طور پر لکھوائی گئی تحریر سمیت تمام شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی فریق کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔دوسری جانب نزاکت محمود عرف بوڑا کی ہلاکت کو پولیس کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلہ قرار دیا گیا ہے۔ مقتول کی والدہ کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات نے واقعے کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ واقعے کی اصل حقیقت کا تعین غیر جانب دارانہ تحقیقات، عینی شواہد اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں ہی ممکن ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں