لاہور(کوہسار نیوز)پنجاب میں 33 موبائل پولیس سٹیشن فعال، 6 خواتین کے لیے مخصوص ہونگے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی سے مزین موبائل پولیس سٹیشن وین کا باقاعدہ آغاز کردیا
صوبے کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 33 موبائل پولیس سٹیشنز فنکشنل ہوں گے، جن میں سے 6 خواتین سے متعلق امور کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے موبائل پولیس سٹیشن وین کا معائنہ کیا اور اس کی ورکنگ کا مشاہدہ کیا، انہوں نے وین میں موجود عملے سے بات چیت کی اور سینئر سٹیشن
اسسٹنٹ اور خاتون پبلک گائیڈ سے طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا، اس موقع پر سیکرٹری ہوم احمد جاوید قاضی نے وزیراعلیٰ کو پولیس اسٹیشن کے حوالے سے بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر موبائل پولیس سٹیشن وین میں انچارج سب انسپکٹر، فیلڈ سپروائزر، سینئر سٹیشن اسسٹنٹ، مرد اور خاتون کانسٹیبل تعینات ہوں گے، موبائل پولیس
سٹیشنز یونیورسٹیوں اور گرلز کالجز میں شیڈول کے مطابق جائیں گے جبکہ 15 پر موصول ہونے والی کالز کے ڈیٹا کی بنیاد پر وینز کو مختلف علاقوں میں بھیجا جائے گا۔
ہر پولیس سٹیشن وین پر پولیس سے متعلق 14 مختلف اقسام کی خدمات فراہم کی جائیں گی، شہری یہاں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست، آن لائن ای ٹیگنگ،
گمشدگی کی رپورٹ، کریمنل ریکارڈ چیکنگ اور کرایہ داروں کے اندراج سمیت مختلف سہولیات حاصل کرسکیں گے۔
موبائل پولیس سٹیشن میں گھریلو اور دکانوں کے ملازمین کے اندراج، پولیس اور کریکٹر سرٹیفکیٹ کی ویریفکیشن کے علاوہ لرنر لائسنس، ڈرائیونگ لائسنس، لائسنس کی تجدید، ڈپلیکیٹ اور انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
حکام کے مطابق پولیس سٹیشن وین کی آمد کا شیڈول سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے جاری کیا جائے گا، جبکہ وین کی آمد سے قبل متعلقہ علاقوں کی مساجد میں اعلانات بھی کیے جائیں گے۔
بریفنگ کے مطابق موبائل پولیس سٹیشن سرکاری ایس او پیز کے تحت تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم کے ذریعے کام کرے گا، ایک سب انسپکٹر موبائل یونٹ کے انچارج ہوں گے، جبکہ متعلقہ ایس ایچ او اور علاقے کا بیٹ افسر آپریشن کی نگرانی کے لیے موجود رہیں گے
، سینئر سٹیشن اسسٹنٹ آئی ٹی آپریشنز، ڈیجیٹل ڈیٹا بیس اور آن لائن اندراجات کی نگرانی کرے گا، جبکہ مرد اور خاتون کانسٹیبل شہریوں کی رہنمائی اور سہولت کاری کریں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پولیس سٹیشن کا مقصد پولیسنگ کی خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے، اس اقدام سے عوام اور پولیس کے درمیان فاصلہ کم ہوگا جبکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے وقت اور سفری اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان موبائل پولیس سٹیشن کے ذریعے شہریوں کو عزت و وقار کے ساتھ پولیسنگ کی خدمات براہ راست ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ موبائل پولیس سٹیشن میں خواتین کے لیے مخصوص عملہ تعینات ہوگا، ہراساں کرنے، تشدد اور خواتین و بچوں کے خلاف بدسلوکی جیسے حساس معاملات سے متعلق شکایات کے لیے لیڈیز سٹاف بھی دستیاب ہوگا۔







