تہران(کوہسار نیوز)ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر امریکا کے تازہ میزائل حملوں میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں تین مقامات کو نشانہ بنایا، جہاں 7 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے خوزستان کے ڈپٹی گورنر برائے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے امور کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ رات ہونے والے امریکی میزائل حملوں میں صوبے کے تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 8 دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرچکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ لڑائی کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے بھی امریکی فوجی اڈوں اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں خوزستان کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکی ہیں۔دوسری جانب ایرانی ہلال احمر نے بتایا ہے کہ جنوبی ایران کے علاقے سیریک میں ایک شادی کی تقریب بھی امریکی حملے کی زد میں آئی۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق اس حملے میں ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ ایرانی حکام کے مطابق شادی کی تقریب میں موجود افراد بھی حملے سے متاثر ہوئے، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث علاقے کے طبی مراکز پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری جانی نقصان کے اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم خوزستان میں 7 افراد کی ہلاکت اور سیریک میں شادی کی تقریب پر حملے میں 4 افراد کی ہلاکت کے دعوے نے ایران میں جنگ کے انسانی اثرات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے بحرین، اردن اور عراق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران نے یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے جواب میں کی ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی یکم ستمبر کو ایران میں مختلف اہداف کے خلاف ایک نئی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں پرنس حسن ایئر بیس اور ایک امریکی میرین بیس کو بھاری بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ان امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں جن میں ایرانی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس واشنگٹن کے لیے ’ناقابل فراموش سبق‘ موجود ہیں۔ یہ ان کا ایسا پہلا بیان ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔دوسری جانب خلیجی ممالک میں بھی سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہوگئی ہے۔ کویت نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ڈرون حملوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کررہے ہیں، جبکہ بحرین نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آنے والے ایرانی ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے یکم ستمبر کو ایران میں مختلف اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں تجارتی جہازوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ ایرانی کوششوں کے بعد کی گئیں۔ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی ملک کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ ان علاقوں میں عسلویہ، جیرفت، بندر عباس، قشم جزیرہ، کنارک، چابہار، جاسک، سیریک اور لاوان شامل ہیں۔
امریکا کے تازہ حملے 12 افراد جاں بحق،ایران کے بحرین،عراق اور اردن پر جوابی وار
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







