سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم

ایمان مزاری

اسلام آباد(کوہسارنیوز) سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے سزائیں معطل کردیں۔ سپریم کورٹ نے ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔
عدالت نے دونوں کی ضمانت 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی اور کہا کہ ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک دی گئی ہے۔
متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور انکے شوہر کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی
اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں 17،17 سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
عدالت نے دونوں ملزمان کو پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت 5، 5 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔
دونوں کو سیکشن 10 کے تحت 10، 10 سال قید اور 3کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ سیکشن26 اے کے تحت 2، 2 سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں