حرمین شریفین ریڈلائن اورکشمیر ہماری شہ رگ، وزیراعظم شہبازشریف کا اقوام متحدہ میں خطاب

شہبازشریف

نیویارک(کوہسارنیوز)حرمین شریفین کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہو گا، آبنائے ہرمز کھلا رہنا چاہیئے:شہبازشریف،وزیر اعظم شہبازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔وزیر اعظم شہبازشریف نے اپنے خطاب کے آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔
اپنے خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم نے کہا کہ میں پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کررہا ہوں۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدّس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ۔
جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہےکشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں