کراچی(ویب ڈیسک) کیا مور کھانا حلال ہے؟ یا اس میں کراہت یا حرمت ہے اور اس کے انڈوں کا کیا حکم ہے جہ ہاںمور حلال ہے، اس کا گوشت کھانا حلال ہے، قرآن و سنّت میں جن جانوروں اور پرندوں کے گوشت سے منع کیا گیا ہے، یہ ان ممنوعہ جانوروں میں شامل نہیں، اور اس میں کوئی نقصان و ضرر بھی نہیں، لہٰذا اس میں اصل حلّت ہے، سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 29 میں ہے: ترجمہ: ” وہی اللہ ہیں جنہوں نے تمھارے فائدے کے لیے پیدا کیا جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کا سب۔”
مورنی کے انڈے حلال ہیں، اس لیے کہ جس جانور/ پرندے کا گوشت حلال ہے، اس کے انڈے بھی حلال ہیں۔
مور کو گھر میں رکھنا جائز ہے، آپ نے مور خریدا ہے اور گھر میں رکھنا چاہتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے، تاہم اس کی خوراک اور ضروریات وغیرہ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ بعض تفسیروں میں ہے کہ مور جنت میں تھا، پھر وہاں سے نکال دیا گیا۔ (تفسير ابن عباس، جنّت سے تو انسان کو بھی نکالا گیا ہے، لہٰذا اگر یہ ثابت بھی ہو کہ مور کو جنت سے نکالا گیا ہے تو بھی اس وجہ سے مور کو گھر میں رکھنا منع یا ناپسندیدہ نہیں ہوگا مور کے پنکھ (پر) سجاوٹ اور خوب صورتی کے لیے گھر میں رکھنا جائز ہے۔ لیکن مصحف میں مور کے پر، یا اس طرح کی کوئی اور چیز رکھنا مناسب نہیں ہے، اگر یہ برکت اور ثواب کی نیت سے ہو تو اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کیا مور حلال اور اس کے انڈے کھانا جائز ہے؟پنکھ کا مسئلہ بھی جانیئے







