گڈز ٹرانسپورٹرز سے حکومتی مذاکرات کامیاب، ہڑتال 40 روز کے لیے موخر

گڈز ٹرانسپورٹرز

کراچی(کوہسار نیوز)گڈز ٹرانسپورٹرز سے حکومتی مذاکرات کامیاب، ہڑتال 40 روز کے لیے موخر،گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹرز نے ملک بھر میں 9 روز سے جاری ہڑتال 40 روز کے لیے موخر کر کے گاڑیاں چلانے کا اعلان کر دیا۔گورنر ہاوس میں اجلاس میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان، صوبائی وزیر سعید غنی، پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری کمیونیکیشن، آئی جی موٹروے پولیس، چیئرمین این ایچ اے اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کی۔بعدازاں مذاکرات کی کامیابی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ دونوں فریقین نے فراغ دلی سے ایک دوسرے کا نکتہ سمجھا اور اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے ملک کے لیے قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ آج نیک اور سکون کا دن رہا۔انہوں نے کہاکہ غیر معمولی حالات کا سامنا ہے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں۔وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان و خطے کے امن کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل اپنے عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے لیے کوشاں ہیں۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ گورنر سندھ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ٹرانسپورٹرز کے حل طلب مطالبات حل کر رہے ہیں۔ ہمارے موقف کو سنا۔ جو مطالبات آج حل ہو سکے وہ کیے۔ باقی مطالبات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وفاقی وزراء سمیت میئر کراچی اور سعید غنی نے بھی بہت سپورٹ کی۔ پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ نے بہت سے مسائل حل کیے۔ جو مسائل حل نہ ہوئے وہ مستقبل میں حل ہونے کی امید ہے۔انہوں نے کہا کہ سکھر سے حیدرآباد اور کراچی تک نئی موٹروے کا کام اسی سال شروع ہوگا ۔پورے پاکستان کے لیے یہ بڑی خوشخبری ہے۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہم سب کے لیے پاکستان کا مفاد مقدم ہے۔ ہڑتال نو دن سے ملک بھر میں جاری تھی۔ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ڈیمانڈز تھیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے خصوصی کمیٹی عبدالعلیم خان کی سربراہی میں تشکیل دی تھی۔ یومیہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت طے کرنا اور ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت تمام مسائل پر حکومتی شنوائی نہ ہونے پر ہڑتال کی۔ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبات پر کچھ فوری حل ہوگئے۔ کچھ مطالبات کابینہ سے منظوری کے بعد 15-20 روز میں حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ پنجاب حکومت سے بیشتر مطالبات بھی حل ہوں گے۔ ایکسل لوڈ پر 100 فیصد قانون کے مطابق عمل ہوگا اور ہم اس میں حکومت کا ساتھ دیں گے انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی یقین دہانی اور ٹرانسپورٹرز کی 50 رکنی کمیٹی کی مشاورت سے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہڑتال ختم نہیں ہورہی بلکہ چالیس روز کے لیے موخر کی جارہی ہے۔ اگر حکومتی وعدے پورے نہ ہوئے تو پھر اپنا آئینی حق استعمال کرکے احتجاج کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔صدر ایسوسی ایشن نے کہاکہ نو روزہ پڑتال میں پرامن احتجاج کیا گیا۔ کہیں روڈ بلاک نہیں کیا گیا اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیا گیا۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم نےسارا دن گفتگو کی۔ کوشش کی کہ معاملے کو سمجھ کر حل کریں۔سندھ حکومت کے ذمہ جو کام ہیں وہ کریں گے۔ کچھ مطالبات کے لیے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے، کچھ کو کے پی ٹی کے ساتھ مل کر حل کریں گے۔صوبائی وزیر سعید غنی اور مرتضیٰ وہاب نے ٹرانسپورٹرز کو پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت یومیہ طے نہ کرنے کے لیے 15 روز کا وقت مانگا ہے۔ ٹول ٹیکس اور 10 پہیوں والی گاڑیوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی کمیٹی بنائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں